مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

6-‏12 مئی

2-‏کُرنتھیوں 4-‏6

6-‏12 مئی
  • گیت نمبر 24 اور دُعا

  • اِبتدائی کلمات (‏3 منٹ یا اِس سے کم)‏

پاک کلام سے سنہری باتیں

  • ‏”‏ہم ہمت نہیں ہارتے‏“‏:‏ ‏(‏10 منٹ)‏

    • 2-‏کُر 4:‏16‏—‏یہوواہ ہمیں ”‏دن بہ دن“‏ نیا بناتا ہے۔‏ (‏م04 15/‏8 ص.‏ 25 پ.‏ 16،‏ 17‏)‏

    • 2-‏کُر 4:‏17‏—‏ہم جن مشکلات کا آج سامنا کر رہے ہیں،‏ وہ ”‏تھوڑی دیر کے لیے ہیں اور سخت نہیں ہیں۔‏“‏ (‏م97 1/‏7 ص.‏ 24 پ.‏ 17‏)‏

    • 2-‏کُر 4:‏18‏—‏ہمیں اپنا دھیان خدا کی بادشاہت میں ملنے والی برکتوں پر رکھنا چاہیے۔‏

  • سنہری باتوں کی تلاش:‏ ‏(‏8 منٹ)‏

    • 2-‏کُر 4:‏7‏—‏وہ ”‏خزانہ“‏ کون سا ہے جو ”‏مٹی کے برتنوں“‏ میں رکھا ہے؟‏ (‏م17.‏06 ص.‏ 11 پ.‏ 8‏)‏

    • 2-‏کُر 6:‏13‏—‏ہم کُشادہ‌دل بننے یعنی دوسروں کے لیے ”‏اپنے دلوں میں .‏ .‏ .‏ زیادہ جگہ“‏ بنانے کی نصیحت پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ (‏م09 1/‏11 ص.‏ 24 پ.‏ 7‏)‏

    • آپ نے 2-‏کُرنتھیوں 4 سے 6 ابواب سے یہوواہ خدا کے بارے میں کیا سیکھا ہے؟‏

    • آپ نے اِن ابواب سے اَور کون سی سنہری باتیں سیکھی ہیں؟‏

  • تلاوت:‏ ‏(‏4 منٹ یا اِس سے کم)‏ 2-‏کُر 4:‏1-‏15 (‏تعلیم اور تلاوت‏،‏ نکتہ نمبر 12‏)‏

شاگرد بنانے کی تربیت

  • تعلیم دینے اور تلاوت کرنے میں لگے رہیں:‏ ‏(‏10 منٹ)‏ سامعین سے بات‌چیت۔‏ ویڈیو ‏”‏صحیح طریقے سے پڑھیں‏“‏ چلائیں اور پھر کتاب ‏”‏تعلیم اور تلاوت“‏ کے نکتہ نمبر 5 پر بات‌چیت کریں۔‏

  • تقریر:‏ ‏(‏5 منٹ یا اِس سے کم)‏ م04 1/‏7 ص.‏ 30،‏ 31‏—‏موضوع:‏ کیا ایک بپتسمہ‌یافتہ مسیحی کو کسی ایسے مبشر کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے جس نے ابھی تک بپتسمہ نہیں لیا؟‏ (‏تعلیم اور تلاوت‏،‏ نکتہ نمبر 7‏)‏

مسیحیوں کے طور پر زندگی

  • گیت نمبر 32

  • ‏”‏مَیں دل‌وجان سے یہوواہ کی خدمت کرتا ہوں“‏:‏ ‏(‏8 منٹ)‏ ویڈیو چلائیں پھر سامعین سے یہ سوال پوچھیں:‏ جب بھائی جان فوسٹر جوان اور تندرست تھے تو اُنہوں نے دل‌وجان سے یہوواہ کی خدمت کیسے کی؟‏ اُن کی صورتحال کیسے بدل گئی؟‏ اب بھی وہ دل‌وجان سے یہوواہ کی خدمت کیسے کر رہے ہیں؟‏ آپ نے بھائی جان فوسٹر کے تجربے سے کیا سیکھا ہے؟‏

  • مقامی ضروریات:‏ ‏(‏7 منٹ)‏

  • بائبل کا کلیسیائی مطالعہ:‏ ‏(‏30 منٹ)‏ یسوع مسیح راستہ،‏ باب نمبر 8

  • دُہرائی اور اگلے اِجلاس پر ایک نظر (‏3 منٹ)‏

  • گیت نمبر 33 اور دُعا