مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 مسیحیوں کے طور پر زندگی

بائبل کورس کراتے وقت اِن باتوں کو ذہن میں رکھیں

بائبل کورس کراتے وقت اِن باتوں کو ذہن میں رکھیں

بہت زیادہ نہ بولیں۔‏ یہ نہ سوچیں کہ آپ کو ہر بات کی وضاحت کرنی چاہیے۔‏ یسوع مسیح نے لوگوں سے سوال پوچھے تاکہ اُنہیں سوچنے کی ترغیب ملے اور وہ خود صحیح نتیجے پر پہنچیں۔‏ (‏متی 17:‏24-‏27‏)‏ اگر آپ بائبل کورس کراتے وقت طالبِ‌علم سے سوال پوچھیں گے تو وہ بور نہیں ہوگا اور آپ یہ جان پائیں گے کہ وہ کن باتوں کو سمجھ گیا ہے اور کن باتوں پر ایمان رکھتا ہے۔‏ (‏بی‌ای ص.‏ 253،‏ پ.‏ 3،‏ 4)‏ جب آپ سوال پوچھتے ہیں تو صبر سے طالبِ‌علم کے جواب کا اِنتظار کریں۔‏ اگر وہ غلط جواب دیتا ہے تو اُسے صحیح جواب بتانے کی بجائے اُس سے اِضافی سوال پوچھیں تاکہ وہ خود صحیح نتیجے پر پہنچ سکے۔‏ (‏بی‌ای ص.‏ 238،‏ پ.‏ 1،‏ 2)‏ زیادہ تیز نہ بولیں تاکہ طالبِ‌علم معلومات کو اچھی طرح سمجھ سکے۔‏‏—‏بی‌ای ص.‏ 230،‏ پ.‏ 4۔‏

بہت زیادہ تفصیل نہ بتائیں۔‏ جس موضوع پر آپ بات کر رہے ہیں،‏ اُس کے متعلق ساری تفصیل نہ بتائیں۔‏ (‏یوح 16:‏12‏)‏ پیراگراف کے اہم نکتوں پر توجہ دِلائیں۔‏ (‏بی‌ای ص.‏ 226،‏ پ.‏ 4،‏ 5)‏ شاید ایک موضوع کے بارے میں آپ کے پاس کافی دلچسپ معلومات ہوں لیکن زیادہ تفصیل میں نہ جائیں کیونکہ اِس طرح طالبِ‌علم کی توجہ اہم نکتوں سے ہٹ سکتی ہے۔‏ (‏بی‌ای ص.‏ 235،‏ پ.‏ 3)‏ جب طالبِ‌علم پیراگراف کے اہم نکتے کو سمجھ جاتا ہے تو اگلے پیراگراف پر جائیں۔‏

محض کتاب ختم کرانے کی کوشش نہ کریں۔‏ جب ہم کسی شخص کو بائبل کورس کراتے ہیں تو ہمارا مقصد اُس کے دل تک پہنچنا ہوتا ہے نہ کہ کتاب ختم کرانا۔‏ (‏لُو 24:‏32‏)‏ مضمون میں دی گئی مرکزی آیتوں پر توجہ دِلائیں اور یوں خدا کے کلام کی اہمیت کو اُجاگر کریں۔‏ (‏2-‏کُر 10:‏4؛‏ عبر 4:‏12‏؛‏ بی‌ای ص.‏ 144،‏ پ.‏ 1-‏3)‏ سادہ مثالیں اِستعمال کریں۔‏ (‏بی‌ای ص.‏ 245،‏ پ.‏ 2-‏4)‏ اِس بات کا جائزہ لیں کہ طالبِ‌علم کن باتوں پر ایمان رکھتا ہے اور اُسے کن مشکلوں کا سامنا ہے اور پھر مواد کو اُس کی ضرورت کے مطابق ڈھالیں۔‏ اُس سے کچھ اِس طرح کے سوال پوچھیں:‏ ”‏آپ کو وہ  باتیں کیسی لگ رہی ہیں جو آپ سیکھ رہے ہیں؟‏ اِس مواد سے ہم یہوواہ خدا کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟‏ آپ کے خیال میں آپ کو اُن باتوں پر عمل کرنے سے کیا  فائدہ ہوگا جو آپ سیکھ رہے ہیں؟‏“‏‏—‏بی‌ای ص.‏ 238،‏ پ.‏ 3-‏5؛‏ ص.‏ 259،‏  پ.‏ 1۔‏