مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 مسیحیوں کے طور پر زندگی

اُن کا خیرمقدم کریں

اُن کا خیرمقدم کریں

ہمیں کن کا خیرمقدم کرنا چاہیے؟‏ ہر اُس شخص کا جو ہمارے اِجلاسوں میں آتا ہے،‏ چاہے وہ پہلی مرتبہ آیا ہو یا کافی عرصے سے آ رہا ہو۔‏ (‏روم 15:‏7؛‏ عبر 13:‏2‏)‏ ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارا ہم‌ایمان ہو جو کسی دوسرے ملک سے آیا ہو یا کوئی ایسا یہوواہ کا گواہ ہو جو کافی سالوں کے بعد اِجلاس میں آیا ہو۔‏ ذرا سوچیں کہ اگر آپ اُس کی جگہ ہوں اور کوئی آپ کا خیرمقدم کرے تو آپ کو کیسا لگے گا؟‏ یقیناً آپ کو اچھا لگے گا۔‏ (‏متی 7:‏12‏)‏ تو پھر کیوں نہ اِجلاس سے پہلے اور بعد میں دوسروں سے ملنے کی کوشش کریں؟‏ ایسا کرنے سے کلیسیا میں پیارومحبت کی فضا قائم ہوگی اور یہوواہ خدا کی بڑائی ہوگی۔‏ (‏متی 5:‏16‏)‏ شاید اِجلاس میں آئے ہوئے تمام لوگوں سے ملنا ممکن نہ ہو۔‏ لیکن اگر کلیسیا کے سب ارکان دوسروں سے ملنے کی کوشش کریں گے تو اِس سے اِجلاس میں آنے والے ہر شخص کو اپنائیت کا احساس ہوگا۔‏ *

ہمیں صرف خاص موقعوں جیسے کہ یسوع مسیح کی موت کی یادگاری تقریب پر ہی دوسروں کا خیرمقدم نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر موقعے پر ایسا کرنا چاہیے۔‏ جب ہمارے اِجلاسوں میں پہلی بار آنے والے لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ہم دوسروں کے لیے محبت ظاہر کرتے ہیں تو اُنہیں بھی یہوواہ خدا کی بڑائی کرنے اور اُس کی عبادت کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔‏—‏یوح 13:‏35‏۔‏

^ پیراگراف 3 اگر ایسے لوگ اِجلاسوں میں آئیں جن کو کلیسیا سے خارج کر دیا گیا ہو یا جنہوں نے کلیسیا سے تعلق توڑ لیا ہو تو اُن کے سلسلے میں ہم پاک کلام کے اصولوں پر عمل کریں گے۔‏—‏1-‏کُر 5:‏11؛‏ 2-‏یوح 10‏۔‏