مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر 12

آپ خدا کے دوست کیسے بن سکتے ہیں؟‏

آپ خدا کے دوست کیسے بن سکتے ہیں؟‏

1،‏ 2.‏ یہوواہ خدا کے کچھ دوست کون تھے؟‏

آپ کیسے شخص سے دوستی کرنا چاہیں گے؟‏ بےشک ایک ایسے شخص سے جسے آپ پسند کرتے ہیں،‏ جس سے آپ کی اچھی بنتی ہے،‏ جو دوسروں کے ساتھ پیار سے پیش آتا ہے اور جس میں بہت سی خوبیاں ہیں۔‏

2 یہوواہ خدا کچھ اِنسانوں کو اپنے دوست بننے کا موقع دیتا ہے۔‏ مثال کے طور پر ابراہام نبی خدا کے دوست تھے۔‏ (‏یسعیاہ 41:‏8؛‏ یعقوب 2:‏23‏)‏ یہوواہ خدا داؤد بادشاہ کو بھی پسند کرتا تھا۔‏ اُس نے داؤد کے بارے میں کہا کہ ’‏اُس سے میرا دل خوش ہے۔‏‘‏ (‏اعمال 13:‏22‏)‏ اِس کے علاوہ دانی‌ایل نبی بھی یہوواہ خدا کو بہت ”‏عزیز“‏ تھے۔‏—‏دانی‌ایل 9:‏23‏۔‏

3.‏ ابراہام،‏ داؤد اور دانی‌ایل یہوواہ خدا کے دوست کیسے بنے؟‏

3 ابراہام،‏ داؤد اور دانی‌ایل یہوواہ خدا کے دوست کیسے بنے؟‏ یہوواہ خدا نے ابراہام سے کہا:‏ ”‏تُو نے میری بات مانی۔‏“‏ (‏پیدایش 22:‏18‏)‏ یہوواہ خدا اُن لوگوں سے دوستی کرتا ہے جو خاکساری سے اُس کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔‏ ایک پوری قوم بھی یہوواہ خدا کی دوست بن سکتی ہے۔‏ مثال کے طور پر یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل سے کہا:‏ ”‏میرا حکم مانو اور مَیں تمہارا خدا ہوں گا اور تُم میرے لوگ ٹھہرو گے۔‏“‏ (‏یرمیاہ 7:‏23‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ لہٰذا اگر آپ بھی یہوواہ خدا کے دوست بننا چاہتے ہیں تو آپ کو بھی اُس کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔‏

خدا اپنے دوستوں کی حفاظت کرتا ہے

4،‏ 5.‏ یہوواہ خدا اپنے دوستوں کی حفاظت کیسے کرتا ہے؟‏

4 پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی آنکھیں ساری زمین پر پھرتی ہیں تاکہ وہ اُن کی  اِمداد میں جن کا دل اُس کی طرف کامل ہے اپنے تیئں قوی دِکھائے“‏ یعنی اپنی طاقت ظاہر کرے۔‏ (‏2-‏تواریخ 16:‏9‏)‏ زبور 32:‏8 میں یہوواہ خدا نے اپنے دوستوں سے وعدہ کِیا کہ ’‏مَیں تمہیں تعلیم دوں گا اور جس راہ پر تمہیں چلنا ہوگا تمہیں بتاؤں گا۔‏ مَیں تمہیں صلاح دوں گا۔‏ میری نظر تُم پر ہوگی۔‏‘‏

5 لیکن ایک طاقت‌ور دُشمن یعنی شیطان ہمیں خدا کا دوست بننے سے روکنا چاہتا ہے۔‏ مگر یہوواہ خدا ہماری حفاظت کرنا چاہتا ہے۔‏ ‏(‏زبور 55:‏22 کو پڑھیں۔‏)‏ یہوواہ خدا کے دوستوں کے طور پر ہم پورے دل سے اُس کی عبادت کرتے ہیں۔‏ ہم مشکلات میں بھی اُس کے وفادار رہتے ہیں۔‏ داؤد بادشاہ نے یہوواہ خدا کے بارے میں لکھا:‏ ”‏وہ میرے دہنے ہاتھ ہے اِس لئے مجھے جنبش نہ ہوگی۔‏“‏ (‏زبور 16:‏8؛‏ 63:‏8‏)‏ داؤد کی طرح ہمیں بھی اِس بات پر پورا بھروسا ہے کہ یہوواہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔‏ مگر شیطان ہمیں خدا کا دوست بننے سے روکنے کی کوشش کیسے کرتا ہے؟‏

شیطان کے اِلزام

6.‏ شیطان نے اِنسانوں کے بارے میں کون سے دعوے کیے؟‏

6 باب نمبر 11 میں ہم نے سیکھا تھا کہ شیطان نے خدا پر اِلزام لگایا کہ وہ جھوٹا اور بےاِنصاف ہے کیونکہ اُس نے آدم اور حوا کو یہ آزادی نہیں دی کہ وہ خود صحیح اور غلط کا فیصلہ کر سکیں۔‏ ایوب کی کتاب کے مطابق شیطان اُن اِنسانوں پر بھی اِلزام لگاتا ہے جو خدا کے دوست بننا چاہتے ہیں۔‏ شیطان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا کے بندے اُس سے محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے فائدے کے لیے اُس کی عبادت کرتے ہیں۔‏ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو خدا سے دُور کر سکتا ہے۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ ہم ایوب سے کیا سیکھ سکتے ہیں اور یہوواہ خدا نے اُن کی حفاظت کیسے کی۔‏

7،‏ 8.‏ (‏الف)‏ ایوب کس طرح کے اِنسان تھے؟‏ (‏ب)‏ شیطان نے ایوب کے بارے میں کیا کہا؟‏

7 ایوب کون تھے؟‏ ایوب تقریباً 3600 سال پہلے زمین پر رہتے تھے۔‏ وہ بہت اچھے اِنسان تھے۔‏ یہوواہ خدا نے کہا کہ اُس وقت زمین پر ایوب جیسا کوئی اِنسان نہیں تھا۔‏ وہ دل سے خدا کا احترام کرتے تھے اور بُرائی سے نفرت کرتے تھے۔‏ (‏ایوب 1:‏8‏)‏ وہ یہوواہ خدا کے دوست تھے۔‏

 8 شیطان نے دعویٰ کِیا کہ ایوب خودغرضی کی بِنا پر خدا کی عبادت کرتے ہیں۔‏ اُس نے یہوواہ خدا سے کہا:‏ ”‏کیا تُو نے اُس کے اور اُس کے گھر کے گِرد اور جو کچھ اُس کا ہے اُس سب کے گِرد چاروں طرف باڑ نہیں بنائی ہے؟‏ تُو نے اُس کے ہاتھ کے کام میں برکت بخشی ہے اور اُس کے گلّے ملک میں بڑھ گئے ہیں۔‏ پر تُو ذرا اپنا ہاتھ بڑھا کر جو کچھ اُس کا ہے اُسے چُھو ہی دے تو کیا وہ تیرے مُنہ پر تیری تکفیر [‏یا توہین]‏ نہ کرے گا؟‏“‏—‏ایوب 1:‏10،‏ 11‏۔‏

9.‏ یہوواہ خدا نے شیطان کو کیا کرنے کی اِجازت دی؟‏

9 شیطان نے ایوب پر اِلزام لگایا کہ وہ اپنے فائدے کے لیے یہوواہ خدا کی عبادت کرتے ہیں۔‏ اُس نے یہ دعویٰ بھی کِیا کہ وہ ایوب کو یہوواہ خدا کی عبادت کرنے سے روک سکتا ہے۔‏ یہوواہ خدا شیطان کی باتوں سے متفق نہیں تھا۔‏ لیکن اُس نے شیطان کو ایوب کو آزمانے کی اِجازت دی تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ ایوب نے محبت کی بِنا پر خدا سے دوستی کی ہے۔‏

شیطان ایوب پر مصیبتیں لایا

10.‏ (‏الف)‏ شیطان ایوب پر کون سی مصیبتیں لایا؟‏ (‏ب)‏ اِن مصیبتوں کے باوجود ایوب نے کیا کِیا؟‏

10 سب سے پہلے شیطان نے ایوب کے سب جانوروں کو چوری کروا دیا یا مروا دیا۔‏ پھر اُس نے ایوب کے زیادہ‌تر نوکروں کو مار ڈالا۔‏ ایوب کا سب کچھ چھن گیا۔‏ آخر میں شیطان نے ایوب کے دس بچوں کو بھی ایک طوفان کے ذریعے ہلاک کر دیا۔‏ (‏ایوب 1:‏12-‏19‏)‏ اِس سب کے باوجود ایوب یہوواہ خدا کے وفادار رہے۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏اؔیوب نے اِن حالات کے باوجود بھی نہ تو گُناہ کِیا اور نہ خدا کو اِس زیادتی کا ذمہ‌دار ٹھہرایا۔‏“‏—‏ایوب 1:‏22‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

یہوواہ خدا نے ایوب کو اُن کی وفاداری کا صلہ دیا۔‏

11.‏ (‏الف)‏ شیطان ایوب پر اَور کون سی مصیبت لایا؟‏ (‏ب)‏ اِس مصیبت کے بعد بھی ایوب نے کیا کِیا؟‏

11 ایوب پر اِتنی مصیبتیں لانے کے بعد بھی شیطان نے بس نہیں کی۔‏ اُس نے خدا سے کہا:‏ ”‏اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس کی ہڈی اور اُس کے گوشت کو چُھو دے تو وہ تیرے مُنہ پر تیری تکفیر کرے گا۔‏“‏ پھر اُس نے ایوب کو ایک تکلیف‌دہ بیماری میں مبتلا کر دیا۔‏ (‏ایوب 2:‏5،‏ 7‏)‏ اِس کے بعد بھی ایوب یہوواہ  خدا کے وفادار رہے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں مرتے دم تک اپنی راستی کو ترک نہ کروں گا۔‏“‏—‏ایوب 27:‏5‏۔‏

12.‏ ایوب نے یہ کیسے ثابت کِیا کہ شیطان جھوٹا ہے؟‏

12 ایوب شیطان کے اِلزامات کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔‏ اُنہیں یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اُن پر اِتنی مصیبتیں کیوں آئی ہیں۔‏ اُن کا خیال تھا کہ یہ مصیبتیں یہوواہ خدا کی طرف سے آئی ہیں۔‏ (‏ایوب 6:‏4؛‏ 16:‏11-‏14‏)‏ لیکن اِس کے باوجود وہ یہوواہ خدا کے وفادار رہے۔‏ اِس طرح یہ ثابت ہو گیا کہ ایوب خودغرض نہیں ہیں بلکہ اُنہوں نے خدا سے دوستی اِس لیے کی ہے کیونکہ وہ اُس سے پیار کرتے ہیں۔‏ بِلاشُبہ شیطان کے سارے اِلزام جھوٹے تھے۔‏

13.‏ ایوب کو اُن کی وفاداری کا کیا صلہ ملا؟‏

13 ایوب نہیں جانتے تھے کہ آسمان پر کیا ہو رہا ہے۔‏ لیکن پھر بھی وہ خدا کے وفادار رہے اور اُس سے دوستی نہیں توڑی۔‏ اُنہوں نے ثابت کر دیا کہ شیطان بہت بُرا ہے۔‏ بعد میں یہوواہ خدا نے اُنہیں اُن کی دوستی اور وفاداری کا صلہ دیا۔‏—‏ایوب 42:‏12-‏17‏۔‏

شیطان آپ پر بھی اِلزام لگاتا ہے

14،‏ 15.‏ شیطان نے سب اِنسانوں پر کون سا اِلزام لگایا ہے؟‏

14 ہم ایوب کے واقعے سے بہت سے اہم سبق سیکھ سکتے ہیں۔‏ شیطان ہم پر بھی یہ اِلزام لگاتا ہے کہ ہم صرف اپنے فائدے کے لیے خدا کی عبادت کرتے ہیں۔‏ ایوب 2:‏4 میں شیطان نے یہ دعویٰ کِیا:‏ ”‏اِنسان اپنا سارا مال اپنی جان کے لئے دے ڈالے گا۔‏“‏ یوں شیطان نے نہ صرف ایوب پر بلکہ سب اِنسانوں پر یہ اِلزام لگایا کہ وہ خودغرض ہیں۔‏ ایوب کی موت کے سینکڑوں سال بعد بھی شیطان یہوواہ خدا کی توہین کر رہا تھا اور اُس کے بندوں پر اِلزام لگا رہا تھا۔‏ اِس لیے امثال 27:‏11 میں یہوواہ خدا نے کہا:‏ ”‏اَے میرے بیٹے!‏ دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت [‏یا اپنی توہین]‏ کرنے والے کو جواب دے سکوں۔‏“‏

 15 آپ یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کرنے اور اُس کے دوست بننے کا فیصلہ کرنے سے شیطان کو جھوٹا ثابت کر سکتے ہیں۔‏ اگر آپ کو خدا کا دوست بننے کے لیے اپنی زندگی میں بڑی تبدیلیاں بھی کرنی پڑیں تو ضرور کریں کیونکہ یہ آپ کی زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ ہوگا۔‏ لیکن یاد رکھیں کہ یہ ایک اہم فیصلہ ہے۔‏ شیطان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جب آپ پر مشکلات آئیں گی تو آپ خدا کے وفادار نہیں رہیں گے۔‏ وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ ہم خدا سے بےوفائی کریں۔‏ لیکن وہ ایسا کیسے کرتا ہے؟‏

16.‏ (‏الف)‏ شیطان لوگوں کو یہوواہ خدا کی عبادت کرنے سے روکنے کے لیے کون سے طریقے اِستعمال کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ شیطان آپ کو یہوواہ خدا کی عبادت کرنے سے روکنے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟‏

16 شیطان مختلف طریقوں سے ہمیں خدا کا دوست بننے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔‏ وہ ایک ”‏دھاڑتے ہوئے ببر شیر‏“‏ کی طرح ہم پر حملہ کرتا ہے‏۔‏ (‏1-‏پطرس 5:‏8‏)‏ وہ ایسا کیسے کرتا ہے؟‏ ہو سکتا ہے کہ آپ کے گھر والے یا دوست آپ کو پاک کلام کی تعلیم حاصل کرنے اور صحیح کام کرنے سے روکیں۔‏ اُس وقت شاید آپ کو لگے کہ آپ پر حملہ کِیا گیا ہے۔‏ * (‏یوحنا 15:‏19،‏ 20‏)‏ شیطان ایک اَور طریقے سے بھی ہمیں یہوواہ خدا کی عبادت کرنے سے روکتا ہے۔‏ وہ ”‏روشنی کے فرشتے کا رُوپ“‏ دھار لیتا ہے۔‏ وہ ایسا کیسے کرتا ہے؟‏ ہو سکتا ہے کہ وہ بڑی چالاکی سے ہمیں یہوواہ خدا کی نافرمانی کرنے پر اُکسائے۔‏ (‏2-‏کُرنتھیوں 11:‏14‏)‏ اِس کے علاوہ وہ ہمیں یہ یقین دِلانے کی بھی کوشش کرتا ہے کہ ہم کبھی خدا کی عبادت کرنے کے لائق نہیں بن سکتے۔‏—‏امثال 24:‏10‏۔‏

یہوواہ خدا کے حکموں پر عمل کریں

17.‏ ہم یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کیوں کرتے ہیں؟‏

17 یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کرنے سے ہم شیطان کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔‏ لیکن ہم یہوواہ خدا کے فرمانبردار کیسے رہ سکتے ہیں؟‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور  اپنی ساری طاقت سے [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا سے محبت رکھ۔‏“‏ (‏اِستثنا 6:‏5‏)‏ ہم یہوواہ خدا کی فرمانبرداری اِس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم اُس سے محبت کرتے ہیں۔‏ جیسے جیسے یہوواہ خدا کے لیے ہماری محبت بڑھے گی،‏ ہمارے دل میں اُس کے حکموں پر عمل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔‏ یوحنا رسول نے لکھا:‏ ”‏خدا سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کریں اور اُس کے حکم ہمارے لیے بوجھ نہیں ہیں۔‏“‏—‏1-‏یوحنا 5:‏3‏۔‏

18،‏ 19.‏ (‏الف)‏ یہوواہ خدا ہمیں کون سے کاموں سے منع کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ خدا ہمیں کبھی کوئی ایسا کام کرنے کے لیے نہیں کہتا جو ہم نہیں کر سکتے؟‏

18 یہوواہ خدا ہمیں کون سے کاموں سے منع کرتا ہے؟‏ ایسے کچھ کام بکس ”‏ اُن کاموں سے نفرت کریں جن سے یہوواہ خدا نفرت کرتا ہے‏“‏ میں بتائے گئے ہیں۔‏ شروع میں شاید آپ کو لگے کہ اِن میں سے کچھ کام اِتنے بُرے نہیں ہیں۔‏ لیکن جب آپ پاک کلام کی آیتوں کو پڑھیں گے اور اِن پر سوچ بچار کریں گے تو آپ سمجھ جائیں گے کہ یہوواہ خدا کے حکموں پر عمل کرنا سمجھ‌داری کی بات  کیوں ہے۔‏ شاید آپ کو لگے کہ آپ کو اپنی زندگی میں کچھ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔‏ ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار آپ کو ایسا کرنا مشکل لگے۔‏ لیکن اگر آپ یہ تبدیلیاں کریں گے تو آپ اُس خوشی اور اِطمینان کو حاصل کر سکیں گے جو خدا کے وفادار دوستوں کو ملتا ہے۔‏ (‏یسعیاہ 48:‏17،‏ 18‏)‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں کرنا ممکن ہے؟‏

19 یہوواہ خدا ہمیں کبھی کوئی ایسا کام کرنے کے لیے نہیں کہتا جو ہم نہیں کر سکتے۔‏ (‏اِستثنا 30:‏11-‏14‏)‏ وہ ہمارا سچا دوست ہے۔‏ جتنی اچھی طرح وہ ہمیں جانتا ہے اُتنی اچھی طرح ہم بھی خود کو نہیں جانتے۔‏ وہ ہماری خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہے۔‏ (‏زبور 103:‏14‏)‏ پولُس رسول نے لکھا:‏ ”‏خدا وفادار ہے اور وہ آپ کو کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑنے دے گا جو آپ کی برداشت سے باہر ہو بلکہ وہ ہر آزمائش کے ساتھ کوئی نہ کوئی راستہ بھی نکالے گا تاکہ آپ ثابت‌قدم رہ سکیں۔‏“‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 10:‏13‏،‏ فٹ‌نوٹ)‏ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا ہمیشہ ہمیں صحیح کام کرنے کی طاقت دے گا۔‏ وہ آپ کو ”‏اِنسانی قوت سے بڑھ کر“‏ قوت دے گا تاکہ آپ مشکلات میں ثابت‌قدم رہ سکیں۔‏ (‏2-‏کُرنتھیوں  4:‏7‏)‏ پولُس رسول نے دیکھا تھا کہ یہوواہ خدا نے مشکلات میں اُن کی مدد کیسے کی۔‏ لہٰذا اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جو مجھے طاقت دیتا ہے،‏ اُس کے ذریعے مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں۔‏“‏—‏فِلپّیوں 4:‏13‏۔‏

وہ کام کریں جو یہوواہ خدا کو پسند ہیں

20.‏ آپ کو خود میں کون سی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں اور کیوں؟‏

20 اگر ہم یہوواہ خدا کے دوست بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اُن کاموں کو چھوڑ دینا چاہیے جو اُس کی نظر میں غلط ہیں۔‏ لیکن صرف یہی کافی نہیں ہے۔‏ (‏رومیوں 12:‏9‏)‏ خدا کے دوست اُن کاموں کو پسند کرتے ہیں جنہیں وہ پسند کرتا ہے۔‏ زبور 15:‏1-‏5 میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے دوست کون سے کام کرتے ہیں۔‏ ‏(‏اِن آیتوں کو پڑھیں۔‏)‏ یہوواہ خدا کے دوست اپنے اندر اُس جیسی خوبیاں پیدا کرتے ہیں۔‏ وہ اپنے کاموں سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اُن میں ”‏محبت،‏ خوشی،‏ اِطمینان،‏ تحمل،‏ مہربانی،‏ اچھائی،‏ ایمان،‏ نرم‌مزاجی اور ضبطِ‌نفس“‏ جیسی خوبیاں ہیں۔‏—‏گلتیوں 5:‏22،‏ 23‏۔‏

21.‏ آپ خود میں وہ خوبیاں کیسے پیدا کر سکتے ہیں جو خدا کو پسند ہیں؟‏

21 آپ اپنے اندر یہ خوبیاں کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟‏ آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہوواہ خدا کو کیا پسند ہے۔‏ اِس کے لیے آپ ہر روز بائبل پڑھ سکتے ہیں اور اِس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔‏ (‏یسعیاہ 30:‏20،‏ 21‏)‏ یوں یہوواہ خدا کے لیے آپ کی محبت بڑھے گی۔‏ اور جب اُس کے لیے آپ کی محبت بڑھے گی تو آپ کے دل میں اُس کے حکموں پر عمل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔‏

22.‏ اگر ہم یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کریں گے تو اِس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟‏

22 اپنی زندگی میں تبدیلیاں کرنا ایسے ہی ہے جیسے پُرانے کپڑے اُتار کر نئے کپڑے پہننا۔‏ بائبل میں لکھا ہے کہ ”‏پُرانی شخصیت“‏ اُتار کر ”‏نئی شخصیت“‏ پہن لیں۔‏ (‏کُلسّیوں 3:‏9،‏ 10‏)‏ یہ آسان نہیں ہے۔‏ لیکن جب ہم اپنی زندگی میں تبدیلیاں کرتے ہیں اور یہوواہ خدا کا حکم مانتے ہیں تو وہ اپنے وعدے کے مطابق ہمیں ’‏بڑا اجر‘‏ دیتا ہے۔‏ (‏زبور 19:‏11‏)‏ لہٰذا یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کرنے کا فیصلہ کریں اور شیطان کو جھوٹا ثابت کریں۔‏ یہوواہ خدا سے محبت کی بِنا پر اُس کی عبادت کریں نہ کہ اِنعام حاصل کرنے کے لیے۔‏ یوں آپ خدا کے سچے دوست بن جائیں گے۔‏

^ پیراگراف 16 اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ شیطان کے قبضے میں ہیں جو آپ کو بائبل کی تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔‏ لیکن شیطان ’‏اِس دُنیا کا خدا‘‏ ہے اور ”‏پوری دُنیا [‏اُس]‏ کے قبضے میں ہے۔‏“‏ لہٰذا یہ حیرانی کی بات نہیں کہ لوگ ہمیں یہوواہ خدا کی عبادت کرنے سے روکتے ہیں۔‏—‏2-‏کُرنتھیوں 4:‏4؛‏ 1-‏یوحنا 5:‏19‏۔‏