مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 18

ہم مصیبت کے وقت اپنے بہن‌بھائیوں کی مدد کیسے کرتے ہیں؟‏

ہم مصیبت کے وقت اپنے بہن‌بھائیوں کی مدد کیسے کرتے ہیں؟‏

ڈومینیکن ریپبلک

جاپان

ہیٹی

جب کوئی آفت آتی ہے تو یہوواہ کے گواہ فوراً اپنے اُن بہن‌بھائیوں کی مدد کرتے ہیں جو اِس آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔‏ اِس طرح ہم ایک دوسرے کے لئے سچی محبت ظاہر کرتے ہیں۔‏ (‏یوحنا 13:‏34،‏ 35؛‏ 1-‏یوحنا 3:‏17،‏ 18‏)‏ ہم کن طریقوں سے اپنے مسیحی بہن‌بھائیوں کی مدد کرتے ہیں؟‏

ہم عطیات دیتے ہیں۔‏ پہلی صدی عیسوی میں جب یہودیہ کے علاقے میں کال پڑا تو انطاکیہ کے مسیحیوں نے یہودیہ کے مسیحیوں کے لئے پیسے بھیجے۔‏ (‏اعمال 11:‏27-‏30‏)‏ اِسی طرح جب ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی ملک میں ہمارے بہن‌بھائی مصیبت میں ہیں تو ہم اپنی‌اپنی کلیسیا کے ذریعے اُن کی مدد کے لئے عطیات بھیجتے ہیں۔‏—‏2-‏کرنتھیوں 8:‏13-‏15‏۔‏

ہم امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔‏ متاثرہ علاقے میں کلیسیا کے بزرگ یہ پتہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اُن کی کلیسیا کے تمام افراد خیریت سے ہیں یا نہیں۔‏ اکثر ایک امدادی کمیٹی بنائی جاتی ہے جو متاثر ہونے والے بہن‌بھائیوں کے لئے خوراک،‏ پینے کے پانی،‏ کپڑوں،‏ طبی امداد اور سر چھپانے کی جگہ کا اِنتظام کرتی ہے۔‏ بہت سے ایسے یہوواہ کے گواہ جو کسی خاص کام میں مہارت رکھتے ہیں،‏ اپنے خرچے پر آفت‌زدہ علاقے میں جاتے ہیں۔‏ وہاں پر وہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں یا پھر تباہ‌شُدہ گھروں اور عبادت‌گاہوں کی مرمت کرتے ہیں۔‏ آفت کے وقت ہم اِتنی جلدی امداد کا اِنتظام اِس لئے کر سکتے ہیں کیونکہ ہم میں اتحاد پایا جاتا ہے اور ہم مل کر کام کرنے کے عادی ہیں۔‏ ہم نہ صرف اپنے مسیحی بہن‌بھائیوں کی مدد کرتے ہیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو،‏ دوسرے لوگوں کی بھی مدد کرتے ہیں۔‏—‏گلتیوں 6:‏10‏۔‏

ہم پاک کلام سے تسلی دیتے ہیں۔‏ آفت کے وقت لوگوں کو تسلی کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔‏ ایسے موقعوں پر ہم یہوواہ خدا سے تسلی پاتے ہیں جو ”‏بڑی تسلی بخشتا ہے۔‏“‏ (‏2-‏کرنتھیوں 1:‏3،‏ 4‏)‏ اِس لئے ہم مصیبت‌زدہ لوگوں کو خدا کے وعدوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔‏ ہم اُنہیں یہ اُمید دیتے ہیں کہ بہت جلد خدا کی بادشاہت تمام مصیبتوں کا خاتمہ کر دے گی اور پھر کوئی دُکھ اور تکلیف نہیں ہوگی۔‏—‏مکاشفہ 21:‏4‏۔‏

  • آفت کے وقت یہوواہ کے گواہ اِتنی جلدی امداد کا اِنتظام کیوں کر سکتے ہیں؟‏

  • ہم قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے لوگوں کو خدا کے کلام سے کیسے تسلی دے سکتے ہیں؟‏