مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 4

ہم نے بائبل کا اپنا ترجمہ کیوں شائع کِیا؟‏

ہم نے بائبل کا اپنا ترجمہ کیوں شائع کِیا؟‏

عوامی جمہوریہ کانگو

روانڈا

تیسری یا چوتھی صدی عیسوی سے یونانی زبان کا ایک نسخہ جس میں زبور 69:‏31 میں خدا کا نام دیا گیا ہے

کئی سالوں تک یہوواہ کے گواہ بائبل کے مختلف ترجمے استعمال کرتے تھے اور اِنہیں چھاپتے اور تقسیم کرتے تھے۔‏ لیکن پھر ہم نے فیصلہ کِیا کہ ہم بائبل کا ایک ایسا ترجمہ شائع کریں گے جس کے ذریعے لوگ ”‏سچائی کے بارے میں صحیح علم“‏ حاصل کر سکیں کیونکہ یہی خدا کی مرضی ہے۔‏ (‏1-‏تیمتھیس 2:‏3،‏ 4‏)‏ اِس لئے ہم نے 1950ء میں انگریزی زبان میں ترجمہ نئی دُنیا شائع کرنا شروع کِیا۔‏ اب تک ہم نے 130 سے زیادہ زبانوں میں پاک صحیفوں کا بالکل صحیح اور درست ترجمہ شائع کِیا ہے۔‏

ایک ایسے ترجمے کی ضرورت تھی جس کو آسانی سے سمجھا جا سکے۔‏ زبانیں وقت کے ساتھ‌ساتھ بدلتی رہتی ہیں اور بائبل کے بہت سے ترجموں میں پُرانے یا مشکل لفظ استعمال ہوئے ہیں جو زیادہ‌تر لوگوں کو سمجھ نہیں آتے۔‏ اِس کے علاوہ پاک صحیفوں کے زیادہ پُرانے نسخے دریافت ہوئے۔‏ اِس کے نتیجے میں ماہرین اُن زبانوں کو بہتر طور پر سمجھنے لگے جن میں پاک صحیفے لکھے گئے،‏ یعنی عبرانی،‏ ارامی اور یونانی زبان کو۔‏

ایک صحیح اور درست ترجمے کی ضرورت تھی۔‏ بائبل کا ترجمہ کرنے والوں کو پاک صحیفوں کے بالکل صحیح معنی بیان کرنے چاہئیں اور اِن میں کوئی ردوبدل نہیں کرنی چاہئے۔‏ لیکن بائبل کے زیادہ‌تر ترجموں میں خدا کا نام یہوواہ استعمال نہیں کِیا گیا۔‏

ایک ایسے ترجمے کی ضرورت تھی جس سے یہوواہ خدا کی بڑائی ہو۔‏ پاک صحیفوں کے قدیم نسخوں میں خدا کا نام یہوواہ 7000 مرتبہ آتا ہے۔‏ بائبل کے ہمارے ترجمے میں بھی اِن تمام جگہوں پر خدا کا نام استعمال ہوا ہے۔‏ نیچے ایک ایسے نسخے کی تصویر ہے جس میں خدا کا نام لکھا ہوا ہے۔‏ (‏زبور 83:‏18‏)‏ ہمارا ترجمہ کئی سالوں کی گہری تحقیق کا نتیجہ ہے۔‏ اِسے آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے اور اِس کے ذریعے آپ خدا کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔‏ چاہے ہمارا ترجمہ آپ کی زبان میں دستیاب ہے یا نہیں،‏ ہم آپ کی حوصلہ‌افزائی کرتے ہیں کہ بائبل کو روزانہ پڑھنے کا معمول بنائیں۔‏—‏یشوع 1:‏8؛‏ زبور 1:‏2،‏ 3‏۔‏

  • ہم نے یہ فیصلہ کیوں کِیا کہ ہم بائبل کا اپنا ترجمہ شائع کریں گے؟‏

  • خدا کی مرضی کے بارے میں جاننے کے لئے آپ کون‌سا معمول بنا سکتے ہیں؟‏