یسوع مسیح سے سیکھیں

پوری دُنیا میں امن قائم ہو جائے گا

پوری دُنیا میں امن قائم ہو جائے گا

 ہر کوئی چاہتا ہے کہ دُنیا میں امن اور سکون ہو جائے۔ ہزاروں سالوں سے سیاسی رہنماؤں نے لڑائیاں ختم کرنے اور امن قائم کرنے کی بڑی کوشش کی ہے۔ کبھی کبھار وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ لڑائیاں پھر سے شروع ہو جاتی ہیں۔ کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب پوری دُنیا میں امن قائم ہو جائے گا؟ جی بالکل!‏ غور کریں کہ یسوع نے اِس حوالے سے کیا تعلیم دی۔‏

یسوع کیا کریں گے

 پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ یسوع مسیح بہت جلد پوری زمین پر امن قائم کر دیں گے۔‏

  •   ‏”‏[‏یسوع]‏ .‏.‏.‏ امن کا شہزادہ ہوگا۔ اُس کی حکمرانی کے پھیلاؤ اور امن کی کوئی حد نہیں ہوگی۔“‏ (‏یسعیاہ 9:‏6، 7‏)‏ خدا نے یسوع کو اپنی بادشاہت کا بادشاہ بنایا ہے تاکہ وہ پوری زمین پر امن قائم کریں جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔‏

  •   ‏”‏وہ اُن غریبوں کو بچائے گا جو مدد کی فریاد کرتے ہیں اور اُن کو بھی .‏.‏.‏ جن کا کوئی مددگار نہیں ہے۔“‏ (‏زبور 72:‏12-‏14‏)‏ خدا نے یسوع کو یہ اِختیار دیا ہے کہ وہ تمام اِنسانوں کا اِنصاف کریں اور جنگوں، ظلم، دُکھ اور تکلیف کو ختم کر دیں۔‏

  •   ‏”‏ایک قوم دوسری قوم کے خلاف تلوار نہیں اُٹھائے گی اور نہ ہی وہ لوگ پھر کبھی جنگ کرنا سیکھیں گے۔“‏ (‏یسعیاہ 2:‏4‏)‏ جب یسوع مسیح زمین پر اپنی حکمرانی شروع کریں گے تو وہ تمام اِنسانوں کو سکھائیں گے کہ وہ لڑائی کرنے کی بجائے امن اور سکون سے کیسے رہ سکتے ہیں۔‏

 یسوع پوری زمین پر امن کیسے قائم کریں گے اور آپ اُس میں ہمیشہ تک کیسے رہ سکیں گے؟ اِن سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے یہ ویڈیو دیکھیں:‏ ‏”‏خدا کی بادشاہت کیا ہے؟‏‏“‏

یسوع کی شان‌دار تعلیم

 آج لاکھوں لوگ یسوع کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کی وجہ سے امن اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یسوع نے ایک مشہور تقریر کی جسے پہاڑی وعظ کہا جاتا ہے۔ اِس میں اُنہوں نے بتایا کہ ہم صلح‌پسند کیسے بن سکتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ مل جُل کر کیسے رہ سکتے ہیں۔ آئیے ذرا اِس تقریر کی کچھ باتوں پر غور کریں۔‏

  •   ‏”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو صلح‌پسند ہیں۔“‏ (‏متی 5:‏9‏)‏ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو صرف یہ نہیں سکھایا کہ اُنہوں نے دوسروں کے ساتھ لڑنا جھگڑنا نہیں ہے بلکہ اُنہوں نے اُنہیں یہ بھی سکھایا کہ وہ دوسروں کے ساتھ صلح کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔‏

  •   ‏”‏پہلے جا کر اپنے بھائی سے صلح کریں اور پھر واپس آ کر نذرانہ پیش کریں۔“‏ (‏متی 5:‏23، 24‏)‏ یسوع نے لوگوں کو یہ نصیحت کی کہ وہ دوسروں کے ساتھ اپنے جھگڑوں کو جلدی نمٹا لیں۔ اُنہوں نے سکھایا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہماری عبادت کو قبول کرے تو ہمیں پہلے جا کر اُن لوگوں سے صلح کرنی چاہیے جن کے ساتھ ہماری اَن‌بن ہو گئی ہے۔‏

  •   ‏”‏دوسروں میں نقص نکالنا چھوڑ دیں تاکہ آپ میں نقص نہ نکالے جائیں۔“‏ (‏متی 7:‏1‏)‏ یسوع نے ہمیں خبردار کِیا کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ سختی نہیں برتنی چاہیے اور نہ ہی ہمیں دوسروں سے اُن کاموں کی اُمید کرنی چاہیے جو ہم خود نہیں کرتے۔ ایسا کرنے کی وجہ سے جھگڑا شروع ہو سکتا ہے۔ یسوع نے سکھایا کہ دوسروں میں نقص نکالنے کی بجائے ہمیں دوسروں کی غلطیوں کو ”‏معاف کرتے“‏ رہنا چاہیے۔—‏لُوقا 6:‏37‏۔‏

 پوری دُنیا میں لاکھوں لوگ یسوع کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں۔ وہ اُن لوگوں کے لیے بھی محبت دِکھاتے ہیں جو اُن کے ساتھ بُرا سلوک کر رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے غصے پر قابو پانا اور امن کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے پھر چاہے اُن کے اِردگِرد ظلم، تشدد اور لڑائی جھگڑے عام ہی کیوں نہ ہوں۔‏

 یسوع کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کی وجہ سے لوگوں کو کیا فائدہ ہو رہا ہے۔ یہ جاننے کے لیے اِس مضمون کو پڑھیں:‏ ”‏جنگوں اور لڑائیوں کے باوجود اِطمینان اور سکون۔‏‏“‏