مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 آپ نے پوچھا .‏ .‏ .‏

کیا ایسٹر واقعی ایک مسیحی تہوار ہے؟‏

کیا ایسٹر واقعی ایک مسیحی تہوار ہے؟‏

اِنسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں ایسٹر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ”‏مسیحیوں کا ایک اہم تہوار ہے جو یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔‏“‏ لیکن کیا ایسٹر واقعی ایک مسیحی تہوار ہے؟‏

یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کوئی چیز اصلی ہے یا نقلی،‏ آپ اِس کا غور سے جائزہ لیں گے۔‏ اِسی طرح یہ دیکھنے کے لیے کہ ایسٹر واقعی ایک مسیحی تہوار ہے،‏ ہمیں اِس تہوار کی کچھ تفصیلات کا جائزہ لینا چاہیے۔‏

سب سے پہلے تو اِس بات پر غور کریں کہ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو کیا منانے کا حکم دیا تھا۔‏ اُنہوں نے اپنے جی اُٹھنے کی یادگاری منانے کا نہیں بلکہ اپنی موت کی یادگاری منانے کا حکم دیا تھا۔‏ خدا کے بندے پولُس نے یسوع مسیح کی موت کی یادگاری تقریب کو ”‏عشایِ‌ربانی“‏ کہا۔‏—‏1-‏کرنتھیوں 11:‏20؛‏ لوقا 22:‏19،‏ 20‏۔‏

اِس کے علاوہ اِنسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں لکھا ہے کہ ایسٹر کے رسم‌ورواج مسیح کے جی اُٹھنے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے بلکہ ”‏اُن کی جڑ مختلف قومی روایتوں میں پائی جاتی ہے۔‏“‏ مثال کے طور پر ایک اَور اِنسائیکلوپیڈیا میں ایسٹر کے دو مشہور نشانوں یعنی انڈے اور خرگوش کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ”‏انڈا ایک نئی زندگی کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو خول توڑ کر ایک مجازی موت پر غالب آتی ہے۔‏“‏ اِس میں یہ بھی بتایا گیا:‏ ”‏چونکہ خرگوش ایک ایسے جانور کے طور پر جانا جاتا تھا جس میں بہت زیادہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اِس لیے وہ موسمِ‌بہار کی زرخیزی کی طرف اِشارہ کرتا تھا۔‏“‏

پروفیسر فلپ والٹر نے اپنی کتاب میں بتایا کہ یہ روایات ایسٹر میں کیسے شامل ہو گئیں۔‏ اُنہوں نے لکھا کہ چرچ نے بُت‌پرست لوگوں کو مسیحی مذہب کی طرف مائل کرنے کے لیے کچھ ایسے تہوار ایجاد کیے جو بُت‌پرستوں کے تہواروں سے ملتے جلتے تھے۔‏ مثال کے طور پر بُت‌پرست لوگ موسمِ‌بہار کے آنے کی خوشی میں ایک تہوار مناتے تھے۔‏ موسمِ‌بہار کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا اِس لیے اِس تہوار کو بڑی آسانی سے یسوع مسیح کے جی اُٹھنے سے منسلک کِیا جا سکتا تھا۔‏ پروفیسر والٹر کا کہنا ہے کہ جب اِن تہواروں کو مسیحی مذہب میں شامل کِیا گیا تو بُت‌پرستوں نے لاکھوں کی تعداد میں مسیحی مذہب اپنایا۔‏

جب تک یسوع مسیح کے اِبتدائی شاگرد زندہ تھے تب تک بُت‌پرستی،‏ مسیحی مذہب کا حصہ نہ بنی کیونکہ اِن شاگردوں نے اِسے روکے رکھا۔‏ (‏2-‏تھسلنیکیوں 2:‏7‏)‏ اِن میں سے ایک پولُس تھے۔‏ اُنہوں نے پیش‌گوئی کی کہ ”‏میرے جانے کے بعد .‏ .‏ .‏ ایسے آدمی اُٹھیں گے جو اُلٹی اُلٹی باتیں کہیں گے تاکہ شاگردوں کو اپنی طرف کھینچ لیں۔‏“‏ (‏اعمال 20:‏29،‏ 30‏)‏ پہلی صدی عیسوی کے آخر میں یسوع مسیح کے شاگرد یوحنا نے بتایا کہ اُس وقت کچھ لوگوں نے مسیحیوں کو گمراہ کرنا شروع کر دیا تھا۔‏ (‏1-‏یوحنا 2:‏18،‏ 26‏)‏ اور پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا،‏ چرچ بُت‌پرستوں کی روایات اپنانے لگا۔‏

‏”‏بےایمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جتو۔‏“‏—‏2-‏کرنتھیوں 6:‏14‏۔‏

بعض شاید کہیں کہ اگر ایسٹر میں کچھ بُت‌پرستانہ روایات شامل بھی کی گئی ہیں تو بھی اِس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اِس طرح بُت‌پرست لوگ یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کے عقیدے کو بہتر طور پر سمجھ گئے ہیں۔‏ لیکن کیا پولُس اِس بات سے متفق ہوتے؟‏ جب وہ رومی سلطنت میں سفر کرتے تھے تو اُن کا واسطہ بہت سے بُت‌پرست لوگوں سے پڑا۔‏ لیکن اُنہوں نے یہ سوچ کر اُن کی روایات کو نہیں اپنایا کہ اِس طرح یہ لوگ یسوع مسیح کے بارے میں کوئی تعلیم بہتر طور پر سمجھیں گے۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے مسیحیوں کو نصیحت کی کہ ”‏بےایمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جتو کیونکہ راست‌بازی اور بےدینی میں کیا میل جول؟‏ یا روشنی اور تاریکی میں کیا شراکت؟‏ اِس واسطے [‏یہوواہ]‏ فرماتا ہے کہ اُن میں سے نکل کر الگ رہو اور ناپاک چیز کو نہ چھوؤ۔‏“‏—‏2-‏کرنتھیوں 6:‏14،‏ 17‏۔‏

اِن تمام حقائق کی روشنی میں ہم کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟‏ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایسٹر ایک مسیحی تہوار نہیں ہے۔‏