مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

والدین کو بچوں کی تربیت کیسے کرنی چاہیے؟‏

والدین کو بچوں کی تربیت کیسے کرنی چاہیے؟‏

‏”‏مَیں اپنے بیٹے جورڈن کو کئی بار بتا چُکا تھا کہ اُسے رات کو فلاں وقت تک گھر آ جانا چاہیے۔‏ مگر وہ ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔‏ اُس نے تیسری بار یہ حرکت کی تھی۔‏ گلی سے گزرنے والی ہر گاڑی کی آواز سُن کر مجھے یہی لگتا تھا کہ وہ آ گیا ہے۔‏ آخر وہ کہاں رہ گیا تھا؟‏ کہیں وہ کسی مصیبت میں تو نہیں پھنس گیا تھا؟‏ کیا اُسے اِس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کہ ہم اُس کی وجہ سے کتنے پریشان ہیں؟‏ آخرکار جب وہ گھر آیا تو میرا پارہ بہت چڑھا ہوا تھا۔‏“‏‏—‏جارج۔‏

‏”‏مَیں اپنی بیٹی کی چیخ سُن کر بہت گھبرا گئی۔‏ جب مَیں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ رکھا تھا اور وہ روئے جا رہی تھی۔‏ اُس کے چھوٹے بھائی نے اُسے مارا تھا جو چار سال کا تھا۔‏“‏‏—‏نیکول۔‏

‏”‏ہماری چھ سالہ بیٹی ناٹیلی نے کہا:‏ ”‏مَیں نے انگوٹھی نہیں چرائی۔‏ یہ مجھے کہیں سے ملی تھی۔‏“‏ اُس کی بڑی بڑی نیلی آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ اُس نے ایسا نہیں کِیا۔‏ لیکن ہمیں معلوم تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔‏ اُس کے مُنہ سے لگاتار یہ جھوٹ سُن کر ہمیں اِتنا دُکھ ہوا کہ ہم رونے لگے۔‏“‏‏—‏سٹیفن۔‏

اگر آپ کے بچے ہیں تو کیا آپ نے بھی کبھی ایسا ہی محسوس کِیا ہے جیسا اِن والدین نے کِیا؟‏ اگر آپ اُن جیسی صورتحال میں ہوتے تو کیا آپ اپنے بچوں کی اِصلاح اور تربیت کرتے؟‏ اور اگر کرتے تو کیسے؟‏ بچوں کی تربیت کرنا کتنا اہم ہے؟‏

تربیت کرنے میں کیا شامل ہے؟‏

پاک کلام کے مطابق بچوں کی تربیت کرنے میں بنیادی طور پر اُنہیں تعلیم دینا،‏ اُنہیں نصیحت کرنا اور اُن کی اِصلاح کرنا شامل ہے۔‏ اگرچہ اِس میں کسی حد تک سزا دینے کا عنصر پایا جاتا ہے پھر بھی اِس میں بچوں کے ساتھ بدکلامی کرنا یا اُن پر ظلم کرنا شامل نہیں ہے۔‏—‏امثال 4:‏1،‏ 2‏۔‏

بچوں کی تربیت کرنا باغبانی کرنے کی طرح ہے۔‏ ایک مالی مٹی کو نرم کرتا ہے،‏ پودوں کو پانی دیتا ہے،‏ کھاد ڈالتا ہے اور اُنہیں نقصان‌دہ کیڑے مکوڑوں اور جڑی بوٹیوں سے بچاتا ہے۔‏ جب پودا بڑھتا ہے تو کبھی کبھار مالی کو اُس کی کچھ ڈالیاں کاٹنی پڑتی ہیں تاکہ پودا صحیح سمت میں بڑھتا رہے۔‏ جس طرح ایک مالی مختلف طریقے اِستعمال کرتا ہے تاکہ اُس کے پودے صحت‌مند اور سرسبز رہیں اُسی طرح والدین اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرنے کے لیے مختلف طریقے اِستعمال کرتے ہیں۔‏ لیکن جس طرح مالی پودے کی ڈالیاں تراشتا ہے اُسی طرح کبھی کبھار والدین کو بچوں کی اِصلاح کرنی پڑتی ہے۔‏ جب والدین دیکھتے ہیں کہ اُن کے بچے کوئی غلط عادت یا رویہ اپنا رہے ہیں تو اُنہیں فوراً اُن کی درستی کرنی چاہیے۔‏ اِس طرح بچے صحیح راہ پر چلتے رہتے ہیں۔‏ لیکن پودوں کو تراشتے ہوئے بہت احتیاط برتنی پڑتی ہے تاکہ اُنہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔‏ والدین کو بھی بچوں کی تربیت کرتے وقت بہت احتیاط اور پیار سے کام لینا چاہیے۔‏

اِصلاح اور تربیت کرنے کے سلسلے میں ہمارے خالق یہوواہ خدا نے ایک  اچھی مثال قائم کی ہے۔‏ اُس کی تربیت اِتنی مؤثر اور فائدہ‌مند ہے کہ اُس کے بندے اِس ’‏تربیت کو دوست رکھتے ہیں‘‏ یعنی اِس سے محبت کرتے ہیں۔‏ (‏امثال 12:‏1‏)‏ وہ اِسے ”‏مضبوطی سے پکڑے“‏ رہتے ہیں اور ’‏اِسے جانے نہیں دیتے۔‏‘‏ (‏امثال 4:‏13‏)‏ اگر آپ بچوں کی تربیت کرنے کے سلسلے میں یہوواہ خدا کی مثال پر عمل کریں گے تو آپ کے بچے اِس کے لیے اچھا ردِعمل دِکھائیں گے۔‏ لہٰذا کوشش کریں کہ آپ تربیت کرتے وقت یہوواہ خدا کی طرح (‏1)‏ محبت سے کام لیں،‏ (‏2)‏ سمجھ‌داری سے کام لیں اور (‏3)‏ اپنی بات کے پکے رہیں۔‏

 محبت سے کام لیں

یہوواہ خدا اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اِس لیے وہ اُن کی اِصلاح اور  تربیت کرتا ہے۔‏ پاک صحیفوں میں لکھا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ اُسی کو ملامت کرتا ہے جس سے اُسے محبت ہے۔‏ جیسے باپ اُس بیٹے کو جس سے وہ خوش ہے۔‏“‏ (‏امثال 3:‏12‏)‏ اِس کے علاوہ یہوواہ خدا ”‏رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما“‏ ہے۔‏ (‏خروج 34:‏6‏)‏ اِس لیے وہ کبھی بھی اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‏ وہ اُن سے تلخ کلامی نہیں کرتا،‏ ہر وقت اُن پر تنقید نہیں کرتا اور کبھی اُنہیں طعنے نہیں دیتا۔‏ وہ جانتا ہے کہ ایسی باتیں ”‏تلوار کی طرح چھیدتی ہیں۔‏“‏—‏امثال 12:‏18‏۔‏

بچے کی بات دھیان سے سنیں۔‏

یہوواہ خدا ہمیشہ اپنے غصے کو قابو میں رکھتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے۔‏ لیکن والدین کے لیے کبھی کبھی ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے۔‏ ایسی صورت میں اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ غصے میں آ کر اپنے بچوں کو سزا دیتے ہیں تو اِس سے بچوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے؛‏ شاید بچوں کی اِتنی غلطی بھی نہیں ہوتی جتنی اُنہیں سزا مل جاتی ہے اور شاید ویسے نتائج بھی حاصل نہیں ہوتے جیسے والدین چاہتے ہیں۔‏ دراصل جب والدین غصے اور جھنجھلاہٹ کی وجہ سے سزا دیتے ہیں تو وہ بچوں کی تربیت نہیں کر رہے ہوتے بلکہ یہ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے غصے کو قابو میں نہیں رکھ سکتے۔‏

لیکن جب والدین پیار اور محبت سے تربیت کرتے ہیں تو اِس کے اچھے نتائج نکلتے ہیں۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ جارج اور نیکول جن کا پہلے ذکر کِیا گیا ہے،‏ وہ اپنی اپنی صورتحال سے کیسے نپٹے۔‏

بچے کے ساتھ دُعا کریں۔‏

جارج کہتے ہیں:‏ ”‏جب جورڈن گھر آیا تو مَیں اور میری بیوی غصے سے آگ‌بگولا ہو رہے تھے۔‏ لیکن ہم نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا اور اُس کی بات سنی۔‏ چونکہ بہت رات ہو چکی تھی اِس لیے ہم نے فیصلہ کِیا کہ ہم اِس معاملے پر صبح بات کریں گے۔‏ ہم سب نے مل کر دُعا کی اور سونے چلے گئے۔‏ اگلے دن ہمارا غصہ ٹھنڈا ہو چُکا تھا اِس لیے ہم جورڈن سے نرمی سے بات کر سکے اور یوں اُس کے دل تک پہنچ پائے۔‏ جورڈن نے اپنی غلطی مان لی اور وعدہ کِیا کہ وہ اُس نصیحت پر عمل کرے گا جو اُسے کی گئی ہے۔‏ ہم سمجھ گئے کہ غصے کی حالت میں کوئی بھی قدم اُٹھانا بےکار ہوتا ہے۔‏ جب بھی ہم پہلے اپنے بیٹے کی بات سنتے ہیں تو اکثر اچھے نتائج نکلتے ہیں۔‏“‏

بچے سے بات کریں۔‏

نیکول کہتی ہیں:‏ ”‏جب مَیں نے دیکھا کہ میرے بیٹے نے اپنی بہن کو مارا ہے تو مَیں آپے سے باہر ہو گئی۔‏ مَیں نے فوراً اُسے کچھ کہنے کی بجائے اُسے اُس کے کمرے میں بھیج دیا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ مَیں غصے میں اُسے اچھی طرح سمجھا نہیں پاؤں گی۔‏ جب میرا دماغ ٹھنڈا ہوا تو مَیں نے اپنے بیٹے کو سمجھایا کہ مار پیٹ کرنا غلط ہے اور اُسے یہ بھی دِکھایا کہ اُس کی وجہ سے اُس کی بہن کو چوٹ لگی ہے۔‏ یہ طریقہ کام کر گیا۔‏ میرے بیٹے نے اپنی بہن سے معافی مانگی اور اُسے گلے لگایا۔‏“‏

 لہٰذا ہمیں اپنے بچوں کی تربیت پیار اور محبت کی بِنا پر کرنی چاہیے۔‏ اگر اُنہیں کبھی کبھار سزا دینی بھی پڑے تو تب بھی ہمیں محبت سے کام لینا چاہیے۔‏

سمجھ‌داری سے کام لیں

یہوواہ خدا ہمیشہ مناسب حد تک تربیت کرتا ہے۔‏ (‏یرمیاہ 30:‏11؛‏ 46:‏28‏)‏ وہ تمام باتوں کو مدِنظر رکھتا ہے،‏ یہاں تک کہ اُن باتوں کو بھی جو اِتنی واضح نہیں ہوتیں۔‏ والدین یہوواہ خدا کی اِس مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟‏ سٹیفن جن کا پہلے ذکر کِیا گیا ہے،‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏ہم اپنی بیٹی کا جھوٹ سُن کر دُکھی ہو گئے تھے اور یہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ بار بار یہ کیوں کہہ رہی ہے کہ اُس نے انگوٹھی نہیں چرائی۔‏ پھر بھی ہم نے اِس بات کو ذہن میں رکھا کہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔‏“‏

نیکول کا شوہر رابرٹ بھی اپنے بچوں کی اِصلاح کرتے وقت تمام باتوں کو مدِنظر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔‏ جب بچے کوئی غلط کام کرتے ہیں تو رابرٹ اِن سوالوں پر غور کرتے ہیں:‏ ”‏کیا بچے نے پہلی بار یہ غلط کام کِیا ہے یا یہ اُس کی عادت بنتی جا رہی ہے؟‏ کیا وہ تھکا ہوا ہے یا بیمار ہے؟‏ اُس کی غلطی کہیں کسی اَور مسئلے کی نشانی تو نہیں؟‏“‏

سمجھ‌دار والدین اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ بچے آخر بچے ہوتے ہیں۔‏ پولُس جو یسوع مسیح کے پیروکار اور ایک رسول تھے،‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب مَیں بچہ تھا تو بچوں کی طرح بولتا تھا۔‏ بچوں کی سی طبیعت تھی۔‏“‏ (‏1-‏کرنتھیوں 13:‏11‏)‏ رابرٹ کہتے ہیں:‏ ”‏جب بچے کوئی غلطی کرتے ہیں تو مَیں اُن پر فوراً ٹوٹ پڑنے کی بجائے اکثر یہ سوچتا ہوں کہ جب مَیں بچہ تھا تو مَیں کیا کِیا کرتا تھا۔‏“‏

والدین کو بچوں سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ اُن سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوگی۔‏ لیکن اُنہیں اپنے بچوں کی غلطیوں کو نہ تو نظرانداز کرنا چاہیے اور نہ ہی اِن کے لیے عُذر پیش کرنے چاہئیں۔‏ اپنے بچے کی خوبیوں،‏ خامیوں اور حالات کو مدِنظر رکھنے سے آپ سمجھ‌داری کا ثبوت دیں گے اور یوں آپ اُن کی اچھی تربیت کر سکیں گے۔‏

اپنی بات کے پکے رہیں

پاک صحیفوں میں یہوواہ خدا نے کہا کہ ’‏مَیں لاتبدیل ہوں۔‏‘‏ (‏ملاکی 3:‏6‏)‏  اِس بات سے خدا کے بندوں کا اُس پر بھروسا اَور زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔‏ اگر والدین بھی اِصلاح اور تربیت کرنے کے سلسلے میں ٹھوس معیار رکھتے ہیں تو والدین پر بچوں کا بھروسا مضبوط ہوگا۔‏ لیکن اگر والدین کی سوچ اور معیاروں اُن کے موڈ کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں تو بچے اُلجھن اور مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔‏

یسوع مسیح نے کہا تھا کہ ”‏تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو۔‏“‏ یہ بات بچوں کی تربیت کرنے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔‏ (‏متی 5:‏37‏)‏ جب آپ اپنے بچے سے کہتے ہیں کہ فلاں کام کرنے پر اُسے سزا ملے گی تو اپنی بات پر قائم رہیں۔‏ اگر بچہ وہ کام کرتا ہے تو اُسے سزا دیں۔‏ لیکن اگر آپ سزا دینے کا اِرادہ نہیں رکھتے تو اُسے خالی دھمکیاں نہ دیں۔‏

بچوں کی تربیت کے سلسلے میں ماں باپ کو ایک دوسرے کی رائے معلوم کرتے رہنا چاہیے۔‏ رابرٹ نے کہا:‏ ”‏اگر بچے مجھے کسی بات پر راضی کر لیتے ہیں اور بعد میں مجھے پتہ چلتا ہے کہ اُن کی ماں نے اُنہیں اِس سے منع کِیا تھا تو مَیں بھی منع کر دیتا ہوں تاکہ بچے سمجھ جائیں کہ ہم دونوں کی بات ایک ہے۔‏“‏ اگر ماں باپ کسی بات پر متفق نہیں ہیں تو اُنہیں اکیلے میں بات کرنی چاہیے اور آپسی رضامندی سے کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔‏

تربیت کے فائدے

اگر آپ یہوواہ خدا کی طرح محبت سے اور سمجھ‌داری سے تربیت کرتے ہیں اور جیسا کہتے ہیں ویسا کرتے بھی ہیں تو آپ کے بچوں کو اِصلاح اور تربیت سے بہت فائدہ ہوگا۔‏ آپ کی اچھی پرورش سے آپ کے بچوں کی شخصیت میں نکھار آئے گا اور وہ سمجھ‌دار اور ذمےدار اِنسان بنیں گے۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔‏ وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑے گا۔‏“‏—‏امثال 22:‏6‏۔‏