رنگوں کا ہماری زندگی پر اثر
جب آپ اِردگِرد دیکھتے ہیں تو آپ کی آنکھیں اور دماغ مل کر معلومات اِکٹھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ایک پھل کو دیکھتے ہیں اور پھر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا آپ اِسے کھائیں گے یا نہیں۔ آپ آسمان کو دیکھتے ہیں اور یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آج بارش نہیں ہوگی۔ آپ اِس صفحے پر لکھے الفاظ پڑھ رہے ہیں اور اِن کا مطلب سمجھ رہے ہیں۔ دراصل اِن تینوں صورتوں میں رنگ آپ پر اثر کر رہے ہیں۔ لیکن وہ کیسے؟
پھل کا رنگ دیکھ کر آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ پک چُکا ہے اور آپ اِسے کھا سکتے ہیں۔ آسمان اور بادلوں کے رنگ کو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ موسم کیسا ہوگا۔ آپ اِس مضمون میں لکھے الفاظ کو اِس لئے آسانی سے پڑھ سکتے ہیں کیونکہ الفاظ کا رنگ اور صفحے کا رنگ ایک دوسرے سے فرق ہے۔ شاید اِن تینوں صورتوں میں آپ اِس بات پر غور نہ کریں کہ آپ رنگوں کی مدد سے ہی یہ سب کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ رنگ معلومات کو اِکٹھا کرنے میں مسلسل ہماری مدد کرتے ہیں۔ صرف اِتنا ہی نہیں، رنگ ہمارے جذبات پر بھی بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
رنگوں کا جذبات پر اثر
جب آپ خریداری کے لئے کسی بڑے سٹور میں جاتے ہیں تو بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر آپ کی نظر فوراً پڑتی ہے۔ دراصل اِن چیزوں کے پیکٹ کو اِس طرح سے بنایا جاتا ہے کہ لوگ فوری طور پر اِن کی طرف متوجہ ہوں۔ چاہے آپ کو اندازہ ہو یا نہ ہو، اِشتہارباز اپنی چیزوں کو فروخت کرنے کے لئے ایسے رنگوں کا اِنتخاب کرتے ہیں جو لوگوں کی دلچسپی، جنس اور عمر کے مطابق ہوں۔ گھروں کی سجاوٹ کرنے والے، کپڑوں کو ڈیزائن کرنے والے اور مُصوّر بھی یہ جانتے ہیں کہ رنگ لوگوں کے جذبات کو اُبھارتے ہیں۔
مختلف ثقافت اور رسمورواج کی وجہ سے ایک رنگ کا لوگوں کے جذبات پر فرقفرق اثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایشیا میں کچھ لوگ لال رنگ کو خوشنصیبی اور جشن سے منسوب کرتے ہیں جبکہ افریقہ کے کچھ علاقوں میں لال رنگ کو ماتم کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کچھ رنگ ایسے بھی ہیں جو ہر شخص کے جذبات پر ایک جیسا اثر ڈالتے ہیں، چاہے اُس شخص کا پس منظر کچھ بھی ہو۔ آئیں، تین ایسے ہی رنگوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ یہ ہم پر کیسا اثر ڈال سکتے ہیں۔
لال رنگ بہت نمایاں ہوتا ہے۔ اِس رنگ کو اکثر توانائی، جنگ اور خطرے سے منسلک کِیا جاتا ہے۔ یہ ایک شخص میں شدید جذبات پیدا کرتا ہے۔ اِس رنگ کی وجہ سے ایک شخص کی سانس کی رفتار تیز ہو سکتی ہے، اُس کا بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے اور اُس میں خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔
پاک کلام میں جس عبرانی لفظ کا ترجمہ ”لال“ کِیا گیا ہے، وہ ایک ایسے لفظ سے نکلا ہے جس کا مطلب ”خون“ ہے۔ پاک کلام میں ایک ایسے منظر کا ذکر کِیا گیا ہے جس میں لال رنگ بہت نمایاں ہے۔ اِس میں ایک جسمفروش عورت کا ذکر ہوا ہے جو خونی ہے اور جس نے قرمزی (تیز لال) اور ارغوانی (جامنی) رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ یہ عورت ’قرمزی رنگ کے حیوان پر بیٹھی ہے جو کفر کے ناموں سے لپا ہوا ہے۔‘—مکاشفہ 17:1-6۔
ہرا رنگ لال رنگ سے بالکل اُلٹ اثر ڈالتا ہے کیونکہ اِس کی وجہ سے ایک شخص کے اندر خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے کا عمل آہستہ ہو جاتا ہے اور یہ اِنسان کو بہت پُرسکون کر دیتا ہے۔ ہرے رنگ کو اکثر امنوسلامتی سے منسلک کِیا جاتا ہے۔ جب ہم ہریالی دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہن کو بہت سکون ملتا ہے۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے اِنسانوں کے لئے ہری گھاس پیدا کی۔—پیدایش 1:11، 12، 30۔
سفید رنگ کو اکثر روشنی، حفاظت اور صفائی سے جوڑا جاتا ہے۔ اِسے اکثر نیکی، سادگی، معصومیت اور پاکیزگی کا نشان بھی سمجھا جاتا ہے۔ پاک کلام میں دوسرے رنگوں کی نسبت سفید رنگ کا ذکر سب سے زیادہ ہوا ہے۔ خدا کے کچھ بندوں نے رویاؤں میں ایسے اِنسانوں اور فرشتوں کو دیکھا جنہوں نے سفید رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ یہ اِس بات کی علامت تھا کہ یہ اِنسان اور فرشتے نیک اور روحانی لحاظ سے پاک ہیں۔ (یوحنا 20:12؛ مکاشفہ 3:4؛ 7:9، 13، 14) ایک اَور رویا میں خدا کے ایک بندے نے سفید گھوڑے دیکھے جن کے سواروں نے سفید رنگ کے لباس پہنے ہوئے تھے۔ سفید گھوڑے بُرائی کے خلاف جنگ کی علامت ہیں۔ (مکاشفہ 19:14) خدا نے سفید رنگ کا ذکر کرنے سے اِس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ہمارے گُناہوں کو معاف کرنے کے لئے تیار ہے۔ خدا نے کہا: ”اگرچہ تمہارے گُناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے۔“—یسعیاہ 1:18۔
کسی بات کو یاد رکھنے میں مددگار
جس طریقے سے پاک کلام میں رنگوں کو مختلف نشانوں کے طور پر اِستعمال کِیا گیا ہے، اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا جانتا ہے کہ رنگ اِنسان کے اندر جذبات اُبھارتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاک کلام میں آجکل کے حالات کے بارے میں پہلے سے بتا دیا گیا تھا۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ ایسا وقت آئے گا جب بہت زیادہ جنگیں ہوں گی، قحط پڑیں گے اور خوراک کی کمی اور وبا کی وجہ سے لاکھوں لوگ مر جائیں گے۔ خدا چاہتا ہے کہ ہم اِن باتوں کو یاد رکھیں۔ اِس لئے اُس نے ایک رویا میں مختلف رنگ کے گھوڑے دِکھائے جو کہ اِن حالات کی طرف اِشارے کرتے ہیں۔
اِس رویا میں سب سے پہلے سفید رنگ کے ایک گھوڑے کا ذکر ہوا ہے جو کہ بُرائی کے خلاف یسوع مسیح کی جنگ کا نشان ہے۔ اِس کے بعد لال رنگ کا ایک گھوڑا نظر آتا ہے جو کہ قوموں کے درمیان جنگ کا نشان ہے۔ پھر کالے رنگ کے ایک گھوڑے کا ذکر ہوا ہے جو کہ قحط کا نشان ہے۔ آخر میں ہم زرد رنگ کے گھوڑے کے بارے میں پڑھتے ہیں جس کے ”سوار کا نام موت ہے۔“ (مکاشفہ 6:1-8) ہر گھوڑے کا رنگ ہمارے اندر ایک خاص طرح کا احساس پیدا کر سکتا ہے اور وہ احساس اُس صورتحال سے میل کھاتا ہے جس کی طرف یہ گھوڑا اِشارہ کرتا ہے۔ اِن گھوڑوں کے رنگ کی وجہ سے ہم آسانی سے یاد رکھ سکتے ہیں کہ پاک کلام میں ہمارے زمانے کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے۔
پاک کلام میں ایسی اَور بھی بہت سے مثالیں ہیں جب خدا نے رنگوں کے ذریعے کوئی بات سمجھائی۔ ہمارا خالق جس نے روشنی، رنگ اور ہماری آنکھیں بنائی ہیں، وہ بڑی مہارت سے رنگوں کو اِستعمال کرکے ہمیں اہم باتیں اِس طرح بتاتا ہے کہ ہم اِنہیں آسانی سے سمجھ سکیں اور اِنہیں یاد رکھ سکیں۔ رنگ معلومات کو جمع کرنے اور اِس کے مطابق عمل کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ رنگ ہمارے جذبات پر اثر کرتے ہیں۔ یہ اہم باتوں کو یاد رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ رنگ ہمارے خالق کی طرف سے ایک ایسی نعمت ہیں جن کے ذریعے ہم زندگی سے لطف اُٹھا سکتے ہیں۔

