پاک صحیفوں کی روشنی میں

خدا کی طرف سے خواب

خدا کی طرف سے خواب

کیا ماضی میں خدا خوابوں کے ذریعے اِنسانوں سے بات کرتا تھا؟‏

‏”‏[‏خدا کے نبی]‏ دانی‌ایل نے پلنگ پر لیٹے ہوئے ایک خواب دیکھا۔‏ .‏ .‏ .‏ اُس نے اپنے خواب کا خلاصہ سپردِقلم کِیا ہے۔‏“‏—‏دانی‌ایل 7‏:‏1‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

خدا نے مختلف طریقوں سے اِنسانوں تک اہم پیغام پہنچائے۔‏ قدیم زمانے میں اُس نے کبھی کبھار خوابوں کے ذریعے ایسا کِیا۔‏ لیکن یہ خواب اُن خوابوں کی طرح نہیں تھے جنہیں اِنسان عموماً دیکھتا ہے۔‏ اِنسان اکثر ایسے خواب دیکھتا ہے جو غیر واضح ہوتے ہیں اور جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔‏ البتہ جو خواب خدا کی طرف سے ہوتے تھے،‏ وہ واضح اور پُرمعنی ہوتے تھے اور اُن میں خاص پیغام پایا جاتا تھا۔‏ مثال کے طور پر دانی‌ایل نبی نے ایک خواب میں مختلف حیوانوں کو دیکھا۔‏ اِن حیوانوں کا اِشارہ بابل کی حکومت سے لے کر ہمارے زمانے تک کی کچھ حکومتوں کی طرف تھا۔‏ (‏دانی‌ایل 7:‏1-‏3،‏ 17‏)‏ اِس کے علاوہ خدا نے ایک خواب کے ذریعے یسوع مسیح کے سوتیلے باپ یوسف کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی اور ننھے یسوع کو لے کر مصر چلے جائیں۔‏ اِس طرح ظالم بادشاہ ہیرودیس،‏ یسوع مسیح کو مارنے میں کامیاب نہیں ہوا۔‏ پھر جب ہیرودیس مر گیا تو خدا نے خواب میں یوسف کو اِس بارے میں بتایا اور اُن سے کہا کہ وہ اپنے بیوی بچے کو لے کر واپس اپنے وطن لوٹ جائیں۔‏—‏متی 2:‏13-‏15،‏ 19-‏23‏۔‏

کیا خدا آج بھی خوابوں کے ذریعے اِنسانوں سے بات کرتا ہے؟‏

‏”‏لکھے ہوئے سے تجاوز نہ کرو۔‏“‏‏—‏1‏-‏کرنتھیوں 4:‏6‏۔‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

خدا نے بائبل میں اُن خوابوں کو بھی درج کروایا جو اُس نے اِنسانوں کو دِکھائے۔‏ پاک کلام کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ ”‏ہر ایک صحیفہ جو خدا کے اِلہام سے ہے تعلیم اور اِلزام اور اِصلاح اور راست‌بازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ‌مند بھی ہے تاکہ مردِخدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے۔‏“‏—‏2-‏تیمتھیس 3:‏16،‏ 17‏۔‏

پاک کلام میں ہمیں خدا،‏ اُس کی خوبیوں اور اُس کے معیاروں کے بارے میں ہر وہ بات بتا دی گئی ہے جسے جاننا ہمارے لیے ضروری ہے۔‏ اِس میں ہمیں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ زمین کے لیے خدا کے مقصد میں ہمارا کردار کیا ہے۔‏ یہی وجہ ہے کہ اب خدا خوابوں کے ذریعے اِنسانوں سے بات نہیں کرتا۔‏ اگر ہم جاننا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا یا خدا ہم سے کیا چاہتا ہے تو ہمیں ”‏لکھے ہوئے [‏یعنی بائبل میں لکھی باتوں]‏ سے تجاوز“‏ نہیں کرنا چاہیے۔‏ آج‌کل تقریباً ہر شخص بائبل کو حاصل کر سکتا ہے اور اِس کو پڑھنے سے وہ اُن باتوں کو جان سکتا ہے جو خدا نے اِنسانوں پر ظاہر کیں ہیں۔‏ اِن میں وہ خواب بھی شامل ہیں جو خدا نے اِس میں لکھوائے ہیں۔‏

ہم بائبل میں درج خوابوں اور رویاؤں پر یقین کیوں رکھ سکتے ہیں؟‏

‏”‏آدمی روحُ‌القدس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے۔‏“‏‏—‏2‏-‏پطرس 1:‏21‏۔‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

پاک کلام میں بہت سے ایسے خواب اور رویائیں درج ہیں،‏ جن میں مستقبل میں ہونے والے واقعات کی پیش‌گوئی کی گئی تھی۔‏ اِن پیش‌گوئیاں پر غور کرنے سے ایک شخص دیکھ سکتا ہے کہ بائبل کو تحریر کرنے والوں کی بات میں کتنی سچائی ہے۔‏ کیا اُن کی تحریریں درست ثابت ہوئیں؟‏ اِس سلسلے میں اُس رویا پر غور کریں جو دانی‌ایل نبی نے بابل کی حکومت کے ختم ہونے سے پہلے دیکھی تھی۔‏ یہ رویا دانی‌ایل 8:‏1-‏7 میں درج  ہے۔‏

اِس پیش‌گوئی میں ایک مینڈھے اور بکرے کا ذکر کِیا گیا ہے۔‏ اِس میں بتایا گیا ہے کہ بکرا مینڈھے کو زمین پر پٹختا ہے اور اُسے مارتا ہے۔‏ دانی‌ایل نبی کو اِس رویا کا مطلب جاننے کے لیے کوئی اندازے نہیں لگانے پڑے۔‏ خدا کے ایک فرشتے نے اُنہیں بتایا کہ ”‏[‏مینڈھے]‏ کے دونوں سینگ ماؔدی اور فاؔرس کے بادشاہ ہیں۔‏ اور وہ جسیم بکرا یوؔنان کا بادشاہ ہے۔‏“‏ (‏دانی‌ایل 8:‏20،‏ 21‏)‏ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مادی فارس کی حکومت نے بابل کی حکومت کو شکست دی۔‏ اور پھر کوئی دو سو سال بعد یونان کے بادشاہ سکندرِاعظم نے مادی فارس کی حکومت کو شکست دی۔‏ صرف یہی پیش‌گوئی نہیں بلکہ بائبل میں جتنی بھی پیش‌گوئیاں درج ہیں،‏ وہ مکمل طور پر پوری ہوتی ہیں۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل دوسری کتابوں سے اعلیٰ ہے اور اِس پر بھروسا کِیا جا سکتا ہے۔‏