سرِورق کا موضوع
جُرم کا شکار نہ بنیں!
”جب بھی اندھیرا ہو جاتا تھا تو میرے دوست مجھے پیدل گھر تک چھوڑنے آتے تھے۔ لیکن ایک دن مَیں بہت تھکی ہوئی تھی اِس لئے مَیں نے گھر آنے کے لئے ٹیکسی لی۔
ٹیکسی کا ڈرائیور مجھے گھر لانے کی بجائے ایک سنسان جگہ پر لے گیا۔ وہاں اُس نے میری عزت لُوٹنے کی کوشش کی۔ مَیں بہت زور سے چلّائی اور وہ ایک دم سے پیچھے ہٹ گیا۔ جب وہ دوبارہ میری طرف بڑھا تو مَیں پھر سے چلّائی اور وہاں سے بھاگ گئی۔
اِس واقعے سے پہلے مَیں اکثر سوچا کرتی تھی کہ ایسی صورتحال میں بھلا چیخنے چلّانے کا کیا فائدہ؟ لیکن اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ اِس سے واقعی فائدہ ہوتا ہے۔“—کِرن۔ *
بہت سے ملکوں میں جُرم بہت عام ہے۔ اِس سلسلے میں ایک جج نے کہا: ”بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر شخص کبھی نہ کبھی جُرم کا نشانہ ضرور بنتا ہے۔“ ہو سکتا ہے کہ بعض علاقوں میں جُرم اِتنا عام نہ ہو لیکن پھر بھی ایک شخص کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ اگر وہ احتیاط نہیں برتے گا تو وہ کسی مجرم کے ہاتھ چڑھ سکتا ہے۔
چاہے آپ کے علاقے میں جُرم عام ہے یا نہیں، آپ خود کو اور اپنے عزیزوں کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں آپ پاک کلام کی اِس بات پر عمل کر سکتے ہیں: ”ہوشیار آدمی خطرہ دیکھ کر پناہ ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن نادان آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔“ (امثال ۲۲:۳، نیو اُردو بائبل ورشن) پولیس بھی یہ کہتی ہے کہ ایک شخص کو پہلے سے کچھ ضروری اقدام اُٹھانے چاہئیں تاکہ وہ جُرم کا نشانہ بننے سے بچا رہے۔
جو لوگ جُرم کا نشانہ بنتے ہیں، اُن کو صرف جسمانی اور مالی نقصان ہی نہیں اُٹھانا پڑتا۔ بہت سے لوگوں کے دلودماغ پر تو ایسے زخم لگتے ہیں جو ساری عمر نہیں بھرتے۔ لہٰذا جہاں تک ممکن ہو، ہمیں خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آئیں، اب دیکھتے ہیں کہ ہم جُرم کی اِن چار قسموں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں: ڈکیتی، جنسی زیادتی، انٹرنیٹ جرائم اور شناخت کی چوری۔
ڈکیتی
یہ کیا ہے؟ یہ زور زبردستی کرکے یا ڈرا دھمکا کر لوٹ مار کرنے کو کہتے ہیں۔
اِس کے اثرات: برطانیہ میں ڈکیتی کی کچھ وارداتوں کے بعد ایک وکیل نے دیکھا کہ اگرچہ ڈکیتی کا شکار بننے والوں کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا لیکن اُن کے دلودماغ پر بہت گہرے نقش چھپے ہیں۔ اِس وکیل نے کہا: ”اِن میں سے کئی تو ہر وقت پریشان رہتے ہیں اور ٹھیک سے سو بھی نہیں پاتے۔ کئی متاثرہ افراد کہتے ہیں کہ جو کچھ اُن کے ساتھ ہوا، اُس کی وجہ سے وہ اپنے روزمرہ کاموں کو بھی اچھی طرح سے نہیں کر پاتے۔“
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
-
چور اُچکے موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لہٰذا چوکس رہیں کہ آپ کے اِردگِرد کیا ہو رہا ہے۔
ہوشیار رہیں۔ چور اُچکے موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ اُن لوگوں کو لُوٹتے ہیں جنہیں لٹنے کا خدشہ بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں جو آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی دھیان رکھیں کہ آپ کے اِردگِرد کیا ہو رہا ہے۔ بہت زیادہ شراب نہ پئیں اور نہ ہی منشیات کا استعمال کریں کیونکہ یوں آپ کے حواس صحیح طرح کام نہیں کریں گے۔ صحت کے متعلق ایک انسائیکلوپیڈیا میں لکھا ہے: ”جب ایک شخص شراب پیتا یا نشہ کرتا ہے تو اُس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے اور وہ خطرے کو بھانپ نہیں پاتا۔“
-
اپنی چیزوں کی حفاظت کریں۔ اپنے گھر اور گاڑی کی کھڑکیاں دروازے بند رکھیں۔ کبھی کسی اجنبی کو گھر کے اندر نہ آنے دیں۔ قیمتی چیزوں کو ایسی جگہ پر نہ رکھیں جہاں ہر آنے جانے والے کی نظر اِن پر پڑے۔ پاک کلام میں لکھا ہے: ”تکبّر کے ہمراہ رسوائی آتی ہے لیکن خاکساروں کے ساتھ حکمت ہے۔“ (امثال ۱۱:۲) جو شخص تکبّر میں آکر اپنی مہنگی چیزوں کی نمائش کرتا ہے، اکثر وہی چوروں کے ہاتھ چڑھتا ہے۔
-
دوسروں سے مشورہ لیں۔ ”احمق کی روِش اُس کی نظر میں درست ہے لیکن دانا نصیحت کو سنتا ہے۔“ (امثال ۱۲:۱۵) کسی انجان علاقے میں سفر کرتے وقت پولیس اور اُن لوگوں کی ہدایت پر عمل کریں جو علاقے سے واقف ہیں۔ وہ بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کن جگہوں پر نہیں جانا چاہئے اور آپ اپنی جانومال کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں۔
جنسی زیادتی
یہ کیا ہے؟ اِس کا مطلب صرف عزت لوٹنا نہیں ہے۔ اِس میں دوسرے شخص کو ڈرا دھمکا کر یا زور زبردستی کرکے اُس سے گندی حرکتیں کروانا بھی شامل ہے۔
اِس کے اثرات: ایک عورت جو جنسی زیادتی کا شکار ہوئی تھی، وہ کہتی ہے: ”جب آپ کی عزت لٹ رہی ہوتی ہے تو اُس وقت ہی آپ کے دل پر گھاؤ نہیں لگتے۔ دُکھ کی بات تو یہ ہے کہ بعد میں بھی آپ کو اِس دردناک واقعے کی یاد آتی رہتی ہے۔ اِس ایک واقعے سے آپ اور آپ کے عزیزوں کی زندگی بالکل بدل جاتی ہے۔“ بِلاشُبہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے فرد کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ اصل ذمہدار وہ شخص ہوتا ہے جو دوسرے شخص کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
-
خطرے کی گھنٹی کو اَنسنا نہ کریں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی پولیس لوگوں کو یہ مشورہ دیتی ہے: ”اگر آپ کسی جگہ یا کسی شخص کے ساتھ خود کو تھوڑا سا بھی غیرمحفوظ محسوس کریں تو فوراً وہاں سے چلے جائیں۔ اگر آپ کو لگے کہ کچھ غلط ہو سکتا ہے تو کسی کے لاکھ کہنے پر بھی وہاں نہ رُکیں۔“
-
پُراعتماد اور چوکس رہیں۔ ہوس کے بھوکے لوگ اُن افراد کو اپنا شکار بناتے ہیں جو چوکس نہیں ہوتے اور جن کو قابو میں کرنا آسان ہوتا ہے۔ اِس لئے اعتماد سے چلیں اور ہوشیار رہیں۔
-
فوری ردِعمل دِکھائیں۔ زور سے چلّائیں۔ (استثنا ۲۲:۲۵-۲۷) بھاگ جائیں یا اچانک سے اُسے ماریں۔ ممکن ہو تو کسی محفوظ جگہ بھاگ جائیں اور پولیس کو فون کریں۔
انٹرنیٹ جرائم
یہ کیا ہے؟ یہ ایسے جرائم ہیں جو آنلائن کئے جاتے ہیں۔ اِن میں یہ شامل ہے: ناجائز طور پر حکومت سے مالی مدد لینا، ٹیکس میں فراڈ کرنا، اجازت کے بغیر لوگوں کے کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا، قیمت وصول کرکے چیزیں ڈیلیور نہ کرنا، آنلائن نیلامی اور سرمایہکاری کے نام پر پیسہ ٹھگنا۔
اِس کے اثرات: انٹرنیٹ جرائم کی وجہ سے لوگوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ذرا سینڈرا کی مثال پر غور کریں۔ اُنہیں ایک ایمیل ملی جسے دیکھ کر اُن کو لگا کہ یہ اُن کے بینک کی طرف سے ہے۔ اِس میں اُن سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کی معلومات کو آنلائن اپڈیٹ کریں۔ سینڈرا نے فوراً ایسا کِیا۔ مگر چند منٹ بعد وہ حیران رہ گئیں کیونکہ اُن کے اکاؤنٹ سے ۴۰۰۰ امریکی ڈالر [تقریباً ۳ لاکھ ۹۰ ہزار روپے] کسی اَور ملک کے بینک میں منتقل ہو گئے۔ جلد ہی سینڈرا کو پتہ چل گیا کہ اُن کو ایک جعلی ایمیل کے ذریعے دھوکا دیا گیا ہے۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
-
محتاط رہیں۔ جعلی ویبسائٹس سے خبردار رہیں۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی اصلی ادارہ ایمیل کے ذریعے آپ کی ذاتی معلومات نہیں مانگے گا۔ لہٰذا آنلائن کسی کمپنی میں پیسہ لگانے یا اِس سے کوئی چیز خریدنے سے پہلے کمپنی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ پاک کلام میں لکھا ہے: ”نادان ہر بات کا یقین کر لیتا ہے لیکن ہوشیار آدمی اپنی روِش کو دیکھتا بھالتا ہے۔“ (امثال ۱۴:۱۵) دوسرے ملک میں کسی کمپنی کے ساتھ لیندین کرتے وقت محتاط رہیں کیونکہ اگر کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے تو اِسے حل کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔
-
کمپنی اور اِس کی پالیسیوں کا جائزہ لیں۔ خود سے پوچھیں: ”کیا اِس کمپنی کا کوئی آفس موجود ہے؟ کیا اِس کا فوننمبر درست ہے؟ کیا مجھے چیز کی اصلی قیمت کے علاوہ بھی پیسے دینے پڑیں گے؟ یہ چیز مجھے کب تک ملے گی؟ کیا مَیں اِسے واپس کر سکتا ہوں اور کیا ایسا کرنے پر مجھے پیسے واپس ملیں گے؟“
-
ہر اچھی آفر کا فوراً یقین نہ کریں۔ آنلائن دھوکا دینے والے لوگ اُن افراد کو پھنساتے ہیں جو کم وقت میں اور کم قیمت پر بہت کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو طرحطرح کی آفر کا لالچ دیتے ہیں، مثلاً کچھ گھنٹے کام کریں اور ڈھیر سارا پیسہ کمائیں؛ کم ضمانت پر بھی بڑا قرضہ حاصل کریں یا بڑا منافع ضرور ملے گا اور رقم ڈوبنے کا خطرہ کم ہے۔ امریکہ کی تجارتی کمیشن کے مطابق، ”کسی ادارے میں سرمایہکاری کرنے سے پہلے اچھی طرح دیکھ لیں کہ آیا یہ ادارہ قابلِبھروسا ہے یا نہیں۔ جتنا زیادہ ایک ادارہ منافعے کا دعویٰ کرتا ہے، اُتنا ہی زیادہ دھوکے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ اِس لئے کبھی بھی کسی ادارے کی باتوں میں آکر جلدبازی میں پیسہ نہ لگائیں۔“
شناخت کی چوری
یہ کیا ہے؟ اِس کا مطلب ایک شخص کی ذاتی معلومات کو چرا کر اِسے فراڈ یا غیرقانونی کام کے لئے استعمال کرنا ہے۔
اِس کے اثرات: چور ایک شخص کی ذاتی معلومات چرا کر اُس کے نام پر کریڈٹ کارڈ حاصل کرتے ہیں یا اکاؤنٹ کھول لیتے ہیں۔ پھر وہ اُس شخص کے نام پر ڈھیر سارا قرض اُٹھاتے ہیں۔ بھلے ہی آپ بعد میں قرض معاف کرا لیں لیکن بینک میں آپ کا نام خراب ہو چُکا ہوتا ہے۔ ایک آدمی کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ اُس نے کہا: ”ایک دفعہ اگر بینک میں آپ کا نام خراب ہو جائے تو اِس کا اثر کئی سال تک رہتا ہے۔ یہ اِس سے بھی بدتر ہے کہ کوئی آپ کے اکاؤنٹ سے پیسے چوری کر لے۔“
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
-
اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کریں۔ اگر آپ اکثر بینک سے آنلائن پیسے منتقل کرتے یا خریداری کرتے ہیں تو اپنے پاسورڈ بدلتے رہیں، خاص طور پر جب آپ کوئی ایسا کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں جسے دوسرے لوگ بھی استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے، ایسی ایمیلوں سے ہوشیار رہیں جن میں ذاتی معلومات مانگی جاتی ہیں۔
لوگ صرف کمپیوٹر کے ذریعے ہی نہیں بلکہ بینک سٹیٹمنٹ، چیک بُک، کریڈٹ کارڈ یا شناختی کارڈ کے ذریعے بھی ذاتی معلومات چوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا اِن دستاویزات کو سنبھال کر رکھیں اور اِنہیں پھینکنے سے پہلے اچھی طرح پھاڑ دیں۔ اگر آپ کی کوئی اہم دستاویز چوری یا گم ہو جاتی ہے تو فوراً متعلقہ ادارے کو بتائیں۔
-
اپنے اکاؤنٹ کو باقاعدگی سے چیک کریں۔ امریکہ کی تجارتی کمیشن نے کہا: ”چوکس رہنے سے آپ اپنی شناخت چوری ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اگر آپ جلد ہی یہ بھانپ لیتے ہیں کہ آپ کی شناخت چوری ہو گئی ہے تو آپ بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔“ لہٰذا باقاعدگی سے اپنا اکاؤنٹ چیک کریں اور دیکھیں کہ کسی ایسی چیز کے لئے پیسے تو نہیں کٹے جو آپ نے نہیں خریدی۔ اگر کسی شخص کے اکاؤنٹ سے بڑی رقم نکالی جاتی ہے تو بینک اِس بارے میں اُس شخص کو بتا دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ خود بھی اپنے اکاؤنٹ کو باقاعدگی سے چیک کریں۔ *
بِلاشُبہ اِس دُنیا میں کوئی بھی شخص خود کو مکمل طور پر جُرم سے محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ کچھ لوگ بہت احتیاط کے باوجود بھی جُرم کا شکار ہوئے ہیں۔ مگر چاہے ایک شخص کی صورتحال جو بھی ہو، وہ پاک کلام کی ہدایات پر عمل کرنے سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ پاک کلام میں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ ”حکمت کو ترک نہ کرنا۔ وہ تیری حفاظت کرے گی۔ اُس سے محبت رکھنا۔ وہ تیری نگہبان ہوگی۔“ (امثال ۴:۶) پاک کلام میں یہ وعدہ بھی کِیا گیا ہے کہ خدا جُرم کا خاتمہ کر دے گا۔
جُرم کا خاتمہ نزدیک ہے
ہم کیوں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ خدا جُرم کا خاتمہ کر دے گا؟ اِس سلسلے میں اِن نکتوں پر غور کریں:
-
خدا جُرم کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ”مَیں [یہوواہ] انصاف کو عزیز رکھتا ہوں اور غارتگری اور ظلم سے نفرت کرتا ہوں۔“—یسعیاہ ۶۱:۸۔
-
خدا جُرم کو ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ”خدا کی قدرت عظیم ہے۔ وہ سچا اور انصافپسند ہے۔“—ایوب ۳۷:۲۳، نیو لائف ورشن۔
-
خدا کا وعدہ ہے کہ وہ بُرے لوگوں کو ختم کر دے گا اور اچھے لوگوں کو بچا لے گا۔ ”بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے“ اور ”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“—زبور ۳۷:۹، ۲۹۔
-
خدا نے اپنے بندوں سے ایک ایسی دُنیا کا وعدہ کِیا ہے جس میں امنوسلامتی ہوگی۔ ”حلیم ملک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔“—زبور ۳۷:۱۱۔
کیا یہ باتیں آپ کا دل چُھو لیتی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو وقت نکال کر بائبل سے سیکھیں کہ خدا انسانوں کے لئے اَور کیا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ دُنیا کی کسی کتاب میں اِتنے اچھے مشورے نہیں دئے گئے جتنے بائبل میں دئے گئے ہیں۔ اور نہ ہی کسی اَور کتاب میں یہ اُمید دی گئی کہ ایک دن زمین جُرم سے پاک ہو جائے گی۔ *
خدا نے ایک ایسی دُنیا کا وعدہ کِیا ہے جس میں امنوسلامتی ہوگی اور جُرم کا نامونشان تک نہیں ہوگا۔
^ پیراگراف 5 فرضی نام استعمال کئے گئے ہیں۔
^ پیراگراف 36 کچھ ملکوں میں ایسی ایجنسیاں ہوتی ہیں جن کے ذریعے لوگ اپنے اکاؤنٹ کی نگرانی کرا سکتے ہیں۔ اگر اُن کے اکاؤنٹ سے بڑی رقم نکالی جاتی ہے تو ایجنسی فوراً اُن کو باخبر کر دیتی ہے۔
^ پیراگراف 44 پاک کلام کی کچھ اہم تعلیمات کے متعلق مزید جاننے کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کو دیکھیں۔ آپ یہ کتاب یہوواہ کے گواہوں سے مُفت حاصل کر سکتے ہیں یا اِسے آنلائن اِس ویبسائٹ پر پڑھ سکتے ہیں: www.jw.org

