عالمی اُفق

عالمی اُفق

عالمی اُفق

سربیا میں یہوواہ کے گواہوں نے مذہبی تنظیم کے طور پر اپنا اندراج کرانے کے لئے درخواست ڈالی ہے اور سربیا کے محکمۂ‌مذہبی امور نے اِس پر غور کرنے کا فیصلہ کِیا ہے۔‏ حکومت کے ریکارڈ کے مطابق یہوواہ کے گواہ سربیا میں ۱۹۳۰ء سے موجود ہیں۔‏

ایک اندازے کے مطابق ۲۰۰۹ء میں دُنیابھر میں انٹرنیٹ سے ڈاؤن‌لوڈ ہونے والے گانوں میں سے ۹۵ فیصد گانے غیرقانونی طور پر ڈاؤن‌لوڈ کئے گئے۔‏ ‏—‏امریکہ کا رسالہ ٹائم۔‏

سب سے جان‌لیوا آفت

اقوامِ‌متحدہ کے ایک ادارے کے مطابق ”‏پچھلے دس سال میں جو آفتیں آئی ہیں،‏ اِن میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی اکثریت زلزلوں میں ہلاک ہوئی۔‏“‏ پچھلے دس سال کے دوران تمام قدرتی آفتوں میں ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد میں سے ۶۰ فیصد لوگ زلزلوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‏ لوگوں کو آئندہ بھی زلزلوں سے بڑا خطرہ رہے گا۔‏ دُنیا میں جن دس شہروں کی آبادی سب سے زیادہ ہے،‏ اِن میں سے آٹھ ایسے علاقوں میں ہیں جہاں زلزلہ آنے کا بڑا امکان ہے۔‏ پچھلے دس سال میں ۳۸۵۲ قدرتی آفتیں آئی ہیں اور اِن میں ۷ لاکھ ۸۰ ہزار لوگوں سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔‏

خطرناک پیشہ

ایک رپورٹ کے مطابق ”‏پچھلے دس سال کے مقابلے میں ۲۰۰۹ء میں سب سے زیادہ صحافیوں کو،‏ یعنی ۱۱۰ صحافیوں کو،‏ قتل کِیا گیا۔‏“‏ (‏انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ،‏ آسٹریا)‏ اِس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے ایسے ملکوں میں جہاں لڑائیاں ہو رہی ہیں ”‏صحافیوں کو جان‌بُوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‏“‏ اِن ملکوں میں افغانستان،‏ عراق،‏ پاکستان اور صومالیہ شامل ہیں۔‏ صحافیوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے ایسے ملکوں سے پہلے کی نسبت کم خبریں آ رہی ہیں۔‏ ”‏یہ پریشانی کا باعث ہے کیونکہ اِس وجہ سے لوگ وہاں ہونے والے واقعات کی وجوہات کو صحیح طرح سے سمجھ نہیں سکیں گے۔‏“‏ پچھلے دس سال میں عراق صحافیوں کے لئے سب سے خطرناک ملک ثابت ہوا ہے جس کے بعد فلپائن،‏ کولمبیا،‏ میکسیکو اور روس آتے ہیں۔‏

ڈاکے کم—‏لُوٹ‌مار زیادہ

جیمز ٹریڈویل جو برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کے لیکچرار ہیں،‏ جُرم اور جرائم پیشہ لوگوں پر تحقیق کرتے ہیں۔‏ اُن کا کہنا ہے کہ ”‏بازاروں میں سستے دام بکنے والے برقی آلات کی بہتات نے برطانیہ کے چوروں کا کام خراب کر دیا ہے۔‏“‏ مثال کے طور پر آج‌کل نئے سی‌ڈی‌پلیئر اِتنے سستے ہیں کہ اِنہیں دوبارہ سے بیچنے سے بہت کم پیسے ملتے ہیں۔‏ جیمز ٹریڈویل کہتے ہیں کہ ”‏چوروں کو سی‌ڈی‌پلیئر چوری کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‏“‏ کیا اِس کا مطلب ہے کہ اب چوریاں نہیں ہوتیں؟‏ نہیں،‏ بلکہ اب چور ”‏موبائل فون اور آئی‌پاڈ جیسی چیزیں چوری کرتے ہیں“‏ کیونکہ یہ زیادہ مہنگی ہیں اور اِن کو آسانی سے بیچا جا سکتا ہے۔‏ چور اب گھروں میں ڈاکے ڈالنے کی بجائے لوگوں کو سرِعام لُوٹ رہے ہیں۔‏