خدا نے شیطان کو اب تک ختم کیوں نہیں کِیا؟
پاک صحیفوں کی روشنی میں
خدا نے شیطان کو اب تک ختم کیوں نہیں کِیا؟
جب کوئی شخص تکلیف میں ہو اور آپ اُس کی تکلیف دُور کر سکتے ہیں تو آپ ضرور ایسا کریں گے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو امدادی کارکُن متاثرین کی مدد کے لئے فوراً پہنچتے ہیں۔ اگر انسان ایک دوسرے کی تکلیف دُور کرنے کے لئے فوراً تیار ہوتے ہیں تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ”خدا نے شیطان کو اب تک ختم کیوں نہیں کِیا جو انسان کی تکلیفوں کی جڑ ہے؟“
اِس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے ذرا تصور کریں کہ عدالت میں ایک قاتل کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔ قاتل مقدمے کی سماعت میں رُکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔ اِس لئے وہ جج پر بےانصاف ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ جج نے جیوری کو اپنی طرف کرنے کے لئے اُنہیں رشوت دی ہے۔ اِن الزامات کی وجہ سے بہت سے گواہوں کو بلایا جاتا ہے جو اپنےاپنے بیان دیتے ہیں۔
جج جانتا ہے کہ اِس طرح مقدمہ دیر تک چلے گا اور بہت سے لوگوں کو تکلیف اُٹھانی پڑے گی۔ وہ یہ نہیں چاہتا۔ لیکن وہ جانتا ہے کہ مقدمے کا صحیح فیصلہ اُسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر دونوں فریقوں کے گواہوں کے بیان سنے جائیں۔ اور اِس میں وقت لگے گا۔
جس طرح اُوپر دی گئی تمثیل میں جج پر الزام لگائے گئے اِسی طرح کائنات کے خالق یہوواہ خدا پر بھی الزام لگائے گئے ہیں۔ یہ الزام شیطان نے لگائے ہیں جسے پاک صحیفوں میں ”بڑا اژدہا،“ ”سانپ“ اور ”اِبلیس“ بھی کہا گیا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۹؛ زبور ۸۳:۱۸) شیطان اصل میں کون ہے؟ اُس نے یہوواہ خدا پر کونسے الزام لگائے؟ اور خدا اُسے کب ختم کرے گا؟
تاریخ کا سب سے اہم مقدمہ
جسے شیطان کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ خدا کا ایک فرشتہ ہے۔ جب خدا نے اُسے خلق کِیا تو اُس میں کوئی بُرائی نہیں تھی۔ (ایوب ۱:۶، ۷) اُس فرشتے کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ انسان اُس کی عبادت کریں۔ وقت گزرنے کے ساتھساتھ یہ خواہش بڑھتی گئی۔ اِس لئے اُس نے دعویٰ کِیا کہ یہوواہ خدا کو حکمرانی کرنے کا حق نہیں ہے۔ اُس نے یہ بھی دعویٰ کِیا کہ خدا عبادت کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ بےانصاف ہے۔ شیطان نے کہا کہ انسان صرف اِس لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ بدلے میں اُن کو برکتیں ملتی ہیں۔ یوں اُس نے خدا پر رشوت دینے کا الزام لگایا۔ شیطان کا دعویٰ تھا کہ مشکلات کی صورت میں سب لوگ خدا کی ”تکفیر“ کریں گے یعنی اُس سے مُنہ موڑ لیں گے۔—ایوب ۱:۸-۱۱؛ ۲:۴، ۵۔
شیطان کے اِن الزامات کو جھوٹا کیسے ثابت کِیا جا سکتا تھا؟ اگر خدا فوراً ہی شیطان کو ختم کر دیتا تو یہ تاثر پیدا ہوتا کہ شیطان کے الزامات صحیح ہیں۔ لہٰذا خدا نے شیطان کو اپنے دعوے ثابت کرنے کا موقع دیا تاکہ ہر باشعور مخلوق پر واضح ہو جائے کہ شیطان جھوٹا ہے۔
یہوواہ خدا انصافپسند ہے اور اپنے اصولوں کی پابندی کرتا ہے۔ اِس لئے اُس نے فیصلہ کِیا کہ ہر فریق گواہوں کو پیش کرے۔ خدا نے پہلے انسان آدم کی اولاد کو زندگی بخشی۔ جو انسان خدا سے محبت رکھتے ہیں اور مشکلات میں بھی اُس کے وفادار رہتے ہیں، وہ شیطان کے الزامات کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ اِس طرح انسان خدا کے حق میں گواہی دے سکتے ہیں۔
مقدمہ کب تک چلے گا؟
یہوواہ خدا جانتا ہے کہ جب تک یہ مقدمہ چل رہا ہے، انسانوں کو تکلیف اُٹھانی پڑے گی۔ لیکن وہ سختدل نہیں ہے بلکہ وہ اِس مقدمے کو جلدازجلد ختم کرنا چاہتا ہے۔ پاک صحیفوں میں یہوواہ خدا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ”رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلی کا خدا ہے۔“ (۲-کرنتھیوں ۱:۳) ظاہر ہے کہ ”ہر طرح کی تسلی کا خدا“ انسانوں کو ہمیشہ تک تکلیف نہیں اُٹھانے دے گا۔ جونہی مقدمے کا فیصلہ ہو جائے گا، وہ شیطان کو ختم کر دے گا اور اُس کے راج کے بُرے اثرات کو بھی مٹا دے گا۔ اگر وہ مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے شیطان کو ہلاک کرے تو یہ بےانصافی ہوگی اِس لئے وہ ایسا نہیں کرے گا۔
جب مقدمہ ختم ہو جائے گا تو سب پر ثابت ہو جائے گا کہ صرف یہوواہ خدا ہی کائنات پر حکمرانی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ شیطان کے خلاف جو فیصلہ سنایا جائے گا، یہ ایک کسوٹی ہوگا۔ اگر آئندہ کبھی خدا پر الزام لگایا جائے تو مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ اِس فیصلے کی بنیاد پر الزام کو غلط ثابت کِیا جائے گا۔
یہوواہ خدا وقت آنے پر یسوع مسیح کو حکم دے گا کہ وہ شیطان کو ہلاک کر دیں اور اُس کے کاموں کو مٹا دیں۔ پاک صحیفوں میں بتایا گیا ہے کہ یسوع مسیح اُن حکومتوں کو ختم کر دیں گے جو خدا کے خلاف ہیں۔ یسوع مسیح بادشاہ کے طور پر اُس وقت تک حکومت کریں گے جب تک خدا تمام دُشمنوں کو اُن کے پاؤں تلے نہ کر دے۔ سب سے آخری دُشمن جس کو ختم کِیا جائے گا، وہ موت ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۴-۲۶۔
خدا شروع سے ہی چاہتا تھا کہ پوری زمین پر فردوس ہو۔ پاک صحیفوں میں وعدہ کِیا گیا ہے کہ خدا کا یہ مقصد مستقبل میں پورا ہوگا۔ تب زمین پر امن اور سلامتی کا دَور ہوگا اور لوگ ہمیشہ تک زندگی کا لطف اُٹھا سکیں گے۔ ”حلیم مُلک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔ . . . صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“—زبور ۳۷:۱۱، ۲۹۔
خدا کے خادموں کا مستقبل بڑا شاندار ہوگا۔ پاک صحیفوں میں لکھا ہے: ”دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خدا ہوگا۔ اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
کیا آپ نے غور کِیا ہے کہ . . .
● شیطان نے خدا اور انسانوں پر کونسے الزام لگائے؟ —ایوب ۱:۸-۱۱۔
● ہم کیوں یقین رکھ سکتے ہیں کہ خدا، شیطان کو ہلاک کرے گا؟—۲-کرنتھیوں ۱:۳۔
● پاک صحیفوں میں انسانوں کے مستقبل کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
[صفحہ ۱۰ پر تصویر]
مقدمے کا صحیح فیصلہ اُسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر دونوں فریقوں کو اپنی دلیلیں پیش کرنے کے لئے وقت دیا جائے۔

