جب شریکِ‌حیات بے‌وفائی کرتا ہے

جب شریکِ‌حیات بے‌وفائی کرتا ہے

‏”‏جب میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ وہ ایک جوان عورت کی خاطر مجھے چھوڑ رہے ہیں تو مَیں اپنی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ سراسر نااِنصافی ہے۔ اور یہ احساس اُس وقت اَور گہرا ہو جاتا تھا جب مَیں یہ سوچتی تھی کہ مَیں نے اُن کے لیے کتنی قربانیاں دی تھیں۔“‏—‏سپین میں رہنے والی ماریہ۔‏

‏”‏جب میری بیوی اچانک سے مجھے چھوڑ کر چلی گئی تو مجھے ایسا لگا جیسے میرے جسم کا کوئی حصہ مر گیا ہو۔ ہمارے خواب، ہماری اُمیدیں اور ہمارے منصوبے سب برباد ہو گئے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ میرا درد ختم ہو گیا ہے لیکن پھر مَیں دوبارہ سے مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جاتا تھا۔“‏—‏سپین میں رہنے والے بِل۔‏

شریکِ‌حیات کی بے‌وفائی کا غم بہت شدید ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ کچھ لوگ معافی مانگنے پر اپنے شریکِ‌حیات کو معاف کر دیتے ہیں اور اپنے رشتے کو دوبارہ بحال کر لیتے ہیں۔ لیکن چاہے شادی کا بندھن قائم رہے یا نہ رہے، جب کسی شخص کو پتہ چلتا ہے کہ اُس کا شریکِ‌حیات اُس سے بے‌وفائی کر رہا ہے تو وہ شدید کرب سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنے تکلیف‌دہ احساسات پر قابو کیسے پا سکتے ہیں؟‏

پاک کلام سے حوصلہ‌افزا آیات

شریکِ‌حیات کی بے‌وفائی کا غم سہنے والے بہت سے لوگوں نے پاک صحیفوں سے تسلی حاصل کی ہے۔ وہ یہ سمجھ گئے ہیں کہ خدا اُن کے آنسوؤں کو دیکھتا ہے اور اُن کے غم میں شریک ہوتا ہے۔—‏ملاکی 2:‏13-‏16‏۔‏

‏”‏جب میرے دل میں فکروں کی کثرت ہوتی ہے تو تیری تسلی میری جان کو شاد کرتی ہے۔“‏‏—‏زبور 94:‏19‏۔‏

بِل کہتے ہیں:‏ ”‏جب مَیں نے یہ آیت پڑھی تو مجھے لگا کہ یہوواہ a ایک شفیق باپ کی طرح بڑے پیار سے میرے زخموں پر مرہم لگا رہا ہے۔“‏

‏”‏جو وفادار ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک وفاداری کا ہے۔“‏‏—‏زبور 18:‏25‏، اُردو جیو ورشن۔‏

کارمن جن کا شوہر کئی مہینوں تک اُن سے بے‌وفائی کرتا رہا، کہتی ہیں:‏ ”‏میرا شوہر میرا وفادار نہیں تھا۔ لیکن مَیں یہوواہ خدا کی وفاداری پر پورا بھروسا کر سکتی تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ مجھے کبھی مایوس نہیں کرے گا۔“‏

‏”‏کسی بات پر پریشان نہ ہوں بلکہ ہر معاملے میں .‏ .‏ .‏ دُعا اور اِلتجا کریں اور اپنی درخواستیں خدا کے سامنے پیش کریں۔ پھر خدا آپ کو وہ اِطمینان دے گا جو سمجھ سے باہر ہے اور یہ اِطمینان .‏ .‏ .‏ آپ کے دل .‏ .‏ .‏ کو محفوظ رکھے گا۔“‏‏—‏فِلپّیوں 4:‏6، 7‏۔‏

ساشا کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں بار بار اِن آیتوں کو پڑھتی تھی۔ مَیں جتنا زیادہ خدا سے دُعا کرتی تھی، مجھے اُتنا ہی زیادہ اِطمینان ملتا تھا۔“‏

جن لوگوں کا اُوپر ذکر کِیا گیا ہے، اُنہیں کبھی کبھار یہ لگا کہ اُن کی ہمت جواب دے گئی ہے۔ لیکن اُنہوں نے یہوواہ خدا پر بھروسا کِیا اور اُس کے پاک کلام سے طاقت حاصل کی۔ بِل کہتے ہیں:‏ ”‏میرے ایمان نے اُس وقت میری زندگی کو بامقصد بنا دیا جب مجھے لگا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ مَیں کچھ دیر کے لیے جیسے ’‏موت کے سائے کی وادی‘‏ سے گزرا لیکن خدا میرے ساتھ تھا۔“‏—‏زبور 23:‏4‏۔‏

a یہوواہ پاک کلام کے مطابق خدا کا ذاتی نام ہے۔‏