مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 مطالعے کا مضمون نمبر 23

‏’‏خبردار رہیں کہ کوئی آپ کو شکار نہ بنا لے!‏‘‏

‏’‏خبردار رہیں کہ کوئی آپ کو شکار نہ بنا لے!‏‘‏

‏”‏خبردار رہیں کہ کوئی آپ کو ایسے فلسفوں اور فضول باتوں کا شکار نہ بنا لے جو اِنسانی روایتوں .‏ .‏ .‏ کے مطابق ہیں۔‏“‏‏—‏کُل 2:‏8‏۔‏

گیت نمبر 37‏:‏ خدا کا پاک کلام

مضمون پر ایک نظر *

1.‏ کُلسّیوں 2:‏4،‏ 8 کے مطابق شیطان ہمارے ذہنوں کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کیسے کرتا ہے؟‏

شیطان چاہتا ہے کہ ہم یہوواہ سے دُور ہو جائیں۔‏ ایسا کرنے کے لیے وہ ہماری سوچ پر حملہ کرتا ہے تاکہ ہمارے ذہنوں کو اپنے قابو میں کر سکے۔‏ وہ ہمیں دھوکا دینے اور اپنا غلام بنانے کے لیے ہماری خواہشات کا فائدہ اُٹھاتا ہے۔‏‏—‏کُلسّیوں 2:‏4،‏ 8 کو پڑھیں۔‏

2،‏ 3.‏ ‏(‏الف)‏ ہمیں کُلسّیوں 2:‏8 میں درج آگاہی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟‏ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کس بات پر غور کریں گے؟‏

2 کیا ہم واقعی شیطان کے ہاتھوں گمراہ ہونے کے خطرے میں ہیں؟‏ جی بالکل۔‏ یاد کریں کہ پولُس نے کُلسّیوں 2:‏8 میں درج آگاہی غیرایمان اشخاص کو نہیں بلکہ اُن مسیحیوں کو دی تھی جو پاک روح سے مسح تھے۔‏ (‏کُل 1:‏2،‏ 5‏)‏ اگر اُس زمانے کے مسیحی گمراہ ہونے کے خطرے میں تھے تو ہم تو اُن سے بھی زیادہ اِس خطرے میں ہیں۔‏ (‏1-‏کُر 10:‏12‏)‏ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏ کیونکہ اب شیطان کا اِختیار زمین تک محدود ہے اور اِس لیے اُس کا پورا دھیان خدا کے وفادار بندوں کو صحیح راہ سے بھٹکانے پر ہے۔‏ (‏مکا 12:‏9،‏ 12،‏ 17‏)‏ اِس کے علاوہ اب ہم ایک ایسے دَور میں رہ رہے ہیں جب ”‏بُرے اور دھوکےباز آدمی بگڑتے چلے“‏ جا رہے ہیں۔‏—‏2-‏تیم 3:‏1،‏ 13‏۔‏

3 اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ شیطان ”‏فضول باتوں“‏ کے ذریعے ہماری سوچ کو بگاڑنے کی کوشش کیسے کرتا ہے۔‏ اِس سلسلے میں ہم اُس کی تین ”‏چالوں“‏ یا حربوں پر بات کریں گے۔‏ (‏اِفس 6:‏11‏)‏ پھر اگلے مضمون میں ہم غور کریں گے کہ اگر شیطان کسی معاملے کے حوالے سے ہماری سوچ کو بگاڑنے میں کامیاب ہو گیا ہے تو ہم اپنے ذہنوں کو اُس کے اثر سے کیسے آزاد کر سکتے ہیں۔‏ لیکن آئیں،‏ پہلے دیکھیں کہ جب بنی‌اِسرائیل ملک کنعان میں داخل ہوئے تو شیطان نے اُنہیں کیسے گمراہ کِیا۔‏ اُن کی مثال میں ہمارے لیے اہم سبق پائے جاتے ہیں۔‏

 بُت‌پرستی کا پھندا

4-‏6.‏ اِستثنا 11:‏10-‏15 کو اِستعمال کرتے ہوئے بتائیں کہ ملک کنعان میں جانے کے بعد بنی‌اِسرائیل کو کھیتی‌باڑی کے طریقے میں کیا ردوبدل کرنا پڑا۔‏

4 شیطان نے بڑی چالاکی سے بنی‌اِسرائیل کو بُت‌پرستی کے پھندے میں پھنسایا۔‏ وہ جانتا تھا کہ اِسرائیلیوں کو خوراک کی ضرورت ہے اور اِسی بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس نے اُنہیں صحیح راہ سے بھٹکایا۔‏ جب بنی‌اِسرائیل ملک کنعان میں داخل ہوئے تو اُنہیں اپنے کھیتی‌باڑی کرنے کے طریقے میں ردوبدل کرنا تھا۔‏ مصر میں بنی‌اِسرائیل کو اپنے کھیتوں کے لیے دریائےنیل سے پانی مل جاتا تھا۔‏ لیکن کنعان میں کوئی بڑا دریا نہیں تھا اِس لیے وہاں کھیتوں کو موسمی بارشوں اور اوس کے ذریعے ہی پانی ملتا تھا۔‏ (‏اِستثنا 11:‏10-‏15 کو پڑھیں؛‏ یسع 18:‏4،‏ 5‏)‏ اِسی لیے اِسرائیلیوں کو کھیتی‌باڑی کرنے کے نئے طریقے سیکھنے پڑے۔‏ یہ اُن کے لیے آسان نہیں تھا کیونکہ کاشت‌کاری کا تجربہ رکھنے والے زیادہ‌تر اِسرائیلی ویرانے میں فوت ہو چُکے تھے۔‏

شیطان اِسرائیلی کاشت‌کاروں کی سوچ کو بگاڑنے میں کامیاب کیسے ہوا؟‏ (‏پیراگراف نمبر 4-‏6 کو دیکھیں۔‏)‏ *

5 یہوواہ نے اپنے بندوں کو واضح طور پر بتایا کہ اُن کے حالات بدل چُکے ہیں۔‏ ساتھ میں اُس نے اُنہیں ایک آگاہی بھی دی جس کا بظاہر کھیتی‌باڑی سے کوئی تعلق نہیں لگتا تھا۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏تُم خبردار رہنا تا ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل دھوکا کھائیں اور تُم بہک کر اَور معبودوں کی عبادت اور پرستش کرنے لگو۔‏“‏ (‏اِست 11:‏16،‏ 17‏)‏ یہوواہ نے بنی‌اِسرائیل سے کھیتی‌باڑی کے نئے طریقے سیکھنے کے بارے میں بات کرتے وقت جھوٹے معبودوں کی پرستش سے باز رہنے کی نصیحت کیوں کی؟‏

6 یہوواہ جانتا تھا کہ بنی‌اِسرائیل کھیتی‌باڑی کے مقامی طریقے سیکھنے کے لیے اپنے اِردگِرد کے بُت‌پرست لوگوں سے رُجوع کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔‏ یہ سچ تھا کہ وہ لوگ بنی‌اِسرائیل کے مقابلے میں کاشت‌کاری کا زیادہ تجربہ رکھتے تھے اور خدا کے بندے اُن سے کچھ ضروری ہنر سیکھ سکتے تھے لیکن اِس میں ایک خطرہ بھی تھا۔‏ کنعانی کاشت‌کار بعل پر ایمان رکھتے تھے اور اُن کے مذہبی عقیدوں کا اثر اُن کے کام کرنے کے طریقوں پر بھی تھا۔‏ وہ بعل کو آسمان کا مالک اور بارش کا دیوتا مانتے تھے۔‏ یہوواہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس کے بندے ایسے جھوٹے عقیدوں پر یقین کرنے لگیں۔‏ مگر پھر بھی اِسرائیلیوں نے بار بار بعل کی  پرستش کرنے کا فیصلہ کِیا۔‏ (‏گن 25:‏3،‏ 5؛‏ قضا 2:‏13؛‏ 1-‏سلا 18:‏18‏)‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ شیطان اُن اِسرائیلیوں کی سوچ کو قابو کرنے میں کیسے کامیاب ہو گیا۔‏

شیطان کے وہ حربے جو بنی‌اِسرائیل پر کام آئے

7.‏ ملک کنعان میں داخل ہونے کے بعد بنی‌اِسرائیل کے ایمان کا اِمتحان کیسے ہوا؟‏

7 شیطان کا پہلا حربہ یہ تھا کہ اُس نے بنی‌اِسرائیل کی فطری خواہش کا فائدہ اُٹھایا۔‏ بنی‌اِسرائیل چاہتے تھے کہ ملک میں بارش ہو۔‏ ملک کنعان میں اپریل کے وسط سے ستمبر کے آخر تک بہت کم بارشیں ہوتی تھیں۔‏ اِسرائیلیوں کی فصلوں کی پیداوار اور اُن کی زندگیوں کا دارومدار اُن بارشوں پر تھا جو عموماً اکتوبر میں شروع ہوتی تھیں۔‏ شیطان نے اِسرائیلیوں کو اِس دھوکے میں مبتلا کر دیا کہ اگر وہ اپنی فصلوں کی اچھی پیداوار چاہتے ہیں تو اُنہیں اپنے اِردگِرد کے بُت‌پرست لوگوں جیسے رسم‌ورواج منانے پڑیں گے۔‏ کنعانی لوگ یہ مانتے تھے کہ اُن کے دیوتا تبھی بارش برسائیں گے جب وہ اُن کے لیے کچھ خاص رسمیں ادا کریں گے۔‏ جو اِسرائیلی یہوواہ پر مضبوط ایمان نہیں رکھتے تھے،‏ وہ اِس سوچ کا شکار ہو گئے کہ خشک‌سالی سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ وہ بعل کی تعظیم میں خاص رسمیں ادا کریں۔‏

8.‏ شیطان نے بنی‌اِسرائیل کو گمراہ کرنے کے لیے کون سا دوسرا حربہ اِستعمال کِیا؟‏ وضاحت کریں۔‏

8 شیطان نے اِسرائیلیوں کو گمراہ کرنے کے لیے جو دوسرا حربہ اِستعمال کِیا،‏ وہ یہ تھا کہ اُس نے اُن کی غلط خواہشوں کو بھڑکایا۔‏ بُت‌پرست لوگ اپنے دیوتاؤں کی عبادت کے دوران بہت گھٹیا جنسی حرکتیں کرتے تھے۔‏ اُن کے مندروں میں نہ صرف عورتیں بلکہ مرد بھی جسم‌فروشی کِیا کرتے تھے۔‏ وہ لوگ ہم‌جنس‌پرستی اور حرام‌کاری کی دیگر قسموں کو نہ صرف برداشت کرتے تھے بلکہ اِنہیں جائز بھی قرار دیتے تھے۔‏ اِس وجہ سے یہ کام بہت عام ہو گئے تھے۔‏ (‏اِست 23:‏17،‏ 18؛‏ 1-‏سلا 14:‏24‏)‏ بُت‌پرست لوگ یہ مانتے تھے کہ ایسے کام کرنے سے وہ اپنے دیوتاؤں کو فصل کی پیداوار بڑھانے پر راضی کرتے ہیں۔‏ بہت سے اِسرائیلی اِن بےہودہ جنسی رسومات کی طرف راغب ہوئے اور اِس طرح جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش میں پڑ گئے۔‏ یوں شیطان نے اُن لوگوں کو اپنا غلام بنا لیا۔‏

9.‏ ہوسیع 2:‏16،‏ 17 کے مطابق شیطان نے بنی‌اِسرائیل کے ذہنوں میں یہوواہ کی ذات کے متعلق ایک غیرواضح تصویر کیسے کھڑی کی؟‏

9 شیطان نے ایک تیسرا حربہ بھی اِستعمال کِیا۔‏ اُس نے بنی‌اِسرائیل کے ذہنوں میں یہوواہ کی ذات کے متعلق ایک غیرواضح تصویر کھڑی کر دی۔‏ یرمیاہ کے زمانے میں رہنے والے جھوٹے نبیوں کے بارے میں یہوواہ نے کہا کہ وہ اُس کے بندوں کے ذہن سے اُس کا نام مٹا کر اُنہیں بعل کی طرف مائل کر رہے تھے۔‏ (‏یرم 23:‏27‏)‏ ایسا لگتا ہے کہ خدا کے بندے اُسے پکارنے کے لیے نام ”‏یہوواہ“‏ اِستعمال کرنے کی بجائے نام ”‏بعل“‏ اِستعمال کرنا شروع ہو گئے تھے جس کا مطلب ہے:‏ ”‏مالک“‏ یا ”‏آقا۔‏“‏ لہٰذا بنی‌اِسرائیل کے ذہنوں میں یہوواہ اور بعل کی ایک ملی جلی تصویر بننے لگی۔‏ یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے بعل کی پرستش میں انجام دی جانے والی رسومات کو یہوواہ کی عبادت کے ساتھ گڈمڈ کر دیا۔‏‏—‏ہوسیع 2:‏16،‏ 17 کو فٹ‌نوٹ سے پڑھیں۔‏ *

شیطان کے وہ حربے جو وہ آج آزماتا ہے

10.‏ شیطان آج لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کون سے حربے اِستعمال کرتا ہے؟‏

10 شیطان آج ہم پر بھی وہی حربے آزماتا ہے جو اُس نے بنی‌اِسرائیل پر آزمائے تھے۔‏ وہ لوگوں کو اپنا غلام بنانے کے لیے اُن کی فطری خواہشوں کا فائدہ اُٹھاتا ہے،‏ اُن کی غلط خواہشوں کو بھڑکاتا ہے اور اُن کے ذہنوں میں یہوواہ کی ایسی تصویر کھڑی کرتا ہے کہ وہ اُس کے بارے میں سچائی نہیں جان پاتے۔‏ آئیں،‏ اُس کے آخری حربے پر پہلے بات کرتے ہیں۔‏

11.‏ شیطان نے لوگوں کے ذہنوں میں یہوواہ کی ذات کے متعلق ایک غیرواضح تصویر کیسے کھڑی کی ہے؟‏

11 شیطان لوگوں کے ذہنوں میں یہوواہ کی ذات کے متعلق ایک  غیرواضح تصویر کھڑی کرتا ہے۔‏ یسوع مسیح کے رسولوں کی موت کے بعد مسیحی ہونے کا دعویٰ کرنے والے کچھ اشخاص نے جھوٹی تعلیمات پھیلانی شروع کر دیں۔‏ (‏اعما 20:‏29،‏ 30؛‏ 2-‏تھس 2:‏3‏)‏ وہ برگشتہ اشخاص یہوواہ کی ذات کے بارے میں سچائی پر پردہ ڈالنے لگے۔‏ مثال کے طور پر اُنہوں نے اپنے ترجموں میں خدا کا نام یہوواہ اِستعمال کرنا بند کر دیا اور اِس کی جگہ ”‏خداوند“‏ جیسے القاب لگا دیے۔‏ اُن کی اِس حرکت کی وجہ سے بائبل پڑھنے والوں کے لیے یہوواہ اور اُن ’‏خداوندوں‘‏ میں فرق کرنا مشکل ہو گیا جن کا صحیفوں میں ذکر کِیا گیا ہے۔‏ (‏1-‏کُر 8:‏5‏،‏ اُردو ریوائزڈ ورشن‏)‏ اِس کے علاوہ اُنہوں نے یہوواہ اور یسوع دونوں کے لیے لقب ”‏خداوند“‏ اِستعمال کِیا جس کی وجہ سے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ یہوواہ اور یسوع دو فرق ہستیاں ہیں اور اُن کے درجے بھی فرق ہیں۔‏ (‏یوح 17:‏3‏)‏ اِس طرح تثلیث کا عقیدہ فروغ پایا جس کی تعلیم بائبل میں نہیں دی گئی ہے۔‏ اِس سب کی وجہ سے بہت سے لوگ یہ مانتے ہیں کہ خدا ایک پُراسرار ہستی ہے اور اُسے جاننا ناممکن ہے۔‏ یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے!‏—‏اعما 17:‏27‏۔‏

شیطان نے جھوٹے مذاہب کے ذریعے غلط خواہشوں کو کیسے بڑھاوا دیا ہے؟‏ (‏پیراگراف نمبر 12 کو دیکھیں۔‏)‏ *

12.‏ جھوٹے مذاہب نے کس چیز کو فروغ دیا ہے اور رومیوں 1:‏28-‏31 کے مطابق اِس کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟‏

12 شیطان لوگوں کی غلط خواہشوں کو بھڑکاتا ہے۔‏ بنی‌اِسرائیل کے زمانے میں شیطان نے جھوٹے مذہب کے ذریعے حرام‌کاری کو فروغ دیا۔‏ وہ آج بھی ایسا ہی کرتا ہے۔‏ جھوٹے مذاہب حرام‌کاری میں شامل کاموں کو نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ اِنہیں جائز بھی قرار دیتے ہیں۔‏ اِس وجہ سے خدا کے خادم ہونے کا دعویٰ کرنے والے بہت سے لوگ جنسی معاملات کے بارے میں اُس کے معیاروں پر چلنا چھوڑ چُکے ہیں۔‏ پولُس رسول نے رومیوں کے نام خط میں بتایا کہ جھوٹے مذاہب کے سائے تلے فروغ پانے والے گھٹیا اخلاقی معیاروں کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔‏ ‏(‏رومیوں 1:‏28-‏31 کو پڑھیں۔‏)‏ اِصطلاح ”‏نامناسب کام“‏ میں وہ تمام کام شامل ہیں جو حرام‌کاری کے زمرے میں آتے ہیں،‏ مثلاً ہم‌جنس‌پرستی۔‏ (‏روم 1:‏24-‏27،‏ 32؛‏ مکا 2:‏20‏)‏ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ہم بائبل کی تعلیمات پر ڈٹے رہیں۔‏

13.‏ شیطان اَور کون سا حربہ اِستعمال کرتا ہے؟‏

13 شیطان لوگوں کی فطری خواہشوں کا فائدہ اُٹھاتا ہے۔‏ ہماری فطری خواہش ہوتی ہے کہ ہم ایسے کام سیکھیں جن کے ذریعے ہم اپنی اور اپنے گھرانے کی ضروریات پوری کر سکیں۔‏ (‏1-‏تیم 5:‏8‏)‏ ایسے کام سیکھنے کے لیے ہمیں عموماً تعلیمی اِداروں میں جانے اور محنت سے پڑھائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ لیکن ہمیں اِس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔‏ بہت سے ملکوں کا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ اِس میں نہ صرف طالبِ‌علموں کو فرق فرق ہنر سکھائے جاتے ہیں بلکہ اُنہیں دُنیا کی دانش‌مندی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔‏ طالبِ‌علموں کے ذہنوں میں خالق کے وجود کے حوالے سے شک  ڈالا جاتا ہے اور اُنہیں بائبل پر ایمان نہ رکھنے کی طرف راغب کِیا جاتا ہے۔‏ اُنہیں یہ دلیل دے کر اِرتقا کے نظریے پر قائل کِیا جاتا ہے کہ سب ذہین لوگ اِسے مانتے ہیں۔‏ (‏روم 1:‏21-‏23‏)‏ ایسے نظریات ”‏خدا کی دانش‌مندی“‏ کے بالکل خلاف ہیں۔‏—‏1-‏کُر 1:‏19-‏21؛‏ 3:‏18-‏20‏۔‏

14.‏ دُنیا کی دانش‌مندی کس چیز کو فروغ دیتی ہے؟‏

14 دُنیا کی دانش‌مندی یہوواہ کے معیاروں کے خلاف جاتی ہے۔‏ یہ ایک شخص میں پاک روح کا پھل پیدا کرنے کی بجائے ”‏جسم کے کام“‏ کرنے کا رُجحان پیدا کرتی ہے۔‏ (‏گل 5:‏19-‏23‏)‏ یہ گھمنڈ اور غرور کو جنم دیتی ہے جس کی وجہ سے لوگ خودغرض بن جاتے ہیں۔‏ (‏2-‏تیم 3:‏2-‏4‏)‏ یہ خصلتیں اُن خوبیوں کے اُلٹ ہیں جو خدا اپنے بندوں میں دیکھنا چاہتا ہے یعنی خاکساری اور حلیمی۔‏ (‏یعقو 4:‏6‏)‏ کچھ مسیحی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی جستجو میں لگ گئے اور اِس چکر میں اُن کی سوچ خدا کی سوچ کے مطابق ڈھلنے کی بجائے دُنیا کی سوچ کے اثر میں آ گئی۔‏ آئیں،‏ اِس کی ایک مثال پر غور کریں۔‏

ہماری سوچ دُنیا کی دانش‌مندی کے اثر میں کیسے آ سکتی ہے؟‏ (‏پیراگراف نمبر 14-‏16 کو دیکھیں۔‏)‏ *

15،‏ 16.‏ آپ نے اُس بہن کی مثال سے کیا سیکھا ہے جس نے اعلیٰ تعلیم کی جستجو کی؟‏

15 ایک بہن جو 15 سال سے کُل‌وقتی خدمت کر رہی ہے،‏ کہتی ہے:‏ ”‏ایک بپتسمہ‌یافتہ گواہ کے طور پر مَیں نے اُن خطروں کے بارے میں پڑھا اور سنا تھا جن کا اعلیٰ تعلیم کی جستجو کرنے والوں کو سامنا ہوتا ہے لیکن مَیں نے ایسی آگاہیوں پر دھیان نہیں دیا۔‏ مجھے لگتا تھا کہ یہ آگاہیاں مجھ پر لاگو نہیں ہوتیں۔‏“‏ اُس بہن کو اعلیٰ تعلیم کے پیچھے بھاگنے کی وجہ سے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟‏ وہ کہتی ہے:‏ ”‏میری پڑھائی میرا اِتنا وقت اور توانائی کھا جاتی تھی کہ مَیں اُس طرح یہوواہ سے دُعا نہیں کر پاتی تھی جس طرح مَیں پہلے کِیا کرتی تھی۔‏ مَیں پڑھ پڑھ کر اِتنا تھک جاتی تھی کہ مجھے دوسروں کے ساتھ بائبل کے متعلق بات کرنے میں مزہ نہیں آتا تھا اور مَیں اِجلاسوں کی اچھی تیاری نہیں کر پاتی تھی۔‏ آخرکار مجھے احساس ہوا کہ اعلیٰ تعلیم کے چکر میں مَیں یہوواہ سے دُور ہوتی جا رہی ہوں۔‏ مَیں سمجھ گئی کہ مجھے اِسے چھوڑنا ہوگا۔‏ اور مَیں نے ایسا کِیا بھی۔‏“‏

 16 اعلیٰ تعلیم کا اُس بہن کی سوچ پر کیا اثر ہوا؟‏ وہ کہتی ہے:‏ ”‏مجھے یہ کہتے ہوئے شرمندگی ہو رہی ہے کہ جن مضامین کا مَیں نے اِنتخاب کِیا،‏ اُن کی وجہ سے مَیں دوسروں اور خاص طور پر اپنے مسیحی بہن بھائیوں کی نکتہ‌چینی کرنے لگی،‏ اُن سے بہت زیادہ توقعات رکھنے لگی اور اُن سے کٹ کٹ کر رہنے لگی۔‏ مجھے ایسی باتوں کے اثر سے نکلنے میں کافی وقت لگا۔‏ اپنی زندگی کے اِس تجربے سے مَیں نے سیکھا کہ اُن آگاہیوں کو نظرانداز کرنا کتنا خطرناک ہے جو ہمارا آسمانی باپ اپنی تنظیم کے ذریعے ہمیں دیتا ہے۔‏ یہوواہ مجھے مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتا تھا۔‏ کاش مَیں نے اُس کی بات سنی ہوتی!‏“‏

17.‏ ‏(‏الف)‏ ہمارا کیا عزم ہونا چاہیے؟‏ (‏ب)‏ اگلے مضمون میں کس بات پر غور کیا جائے گا؟‏

17 یہ عزم کریں کہ آپ اِس دُنیا کے ”‏فلسفوں اور فضول باتوں“‏ میں آ کر شیطان کے غلام نہیں بنیں گے۔‏ آئندہ بھی شیطان کے حربوں کو خود پر نہ چلنے دیں۔‏ (‏1-‏کُر 3:‏18؛‏ 2-‏کُر 2:‏11‏)‏ اُسے یہ اِجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے ذہن میں یہوواہ کی ذات کی تصویر کو دُھندلا کر پائے۔‏ یہوواہ کے اعلیٰ معیاروں پر چلتے رہیں۔‏ شیطان کے دھوکے میں آ کر کبھی یہوواہ کی ہدایتوں کو نظرانداز نہ کریں۔‏ لیکن اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا ذہن دُنیا کی سوچ سے آلودہ ہو گیا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‏ اگلے مضمون میں ہم بات کریں گے کہ خدا کا کلام غلط سوچ اور بُری عادتوں کی مضبوط دیواروں کو ڈھانے میں ہماری مدد کیسے کرتا ہے۔‏—‏2-‏کُر 10:‏4،‏ 5‏۔‏

گیت نمبر 11‏:‏ یہوواہ کا دل شاد کرو

^ پیراگراف 5 شیطان لوگوں کو گمراہ کرنے میں ماہر ہے۔‏ اُس نے بہت سے لوگوں کو دھوکے سے اِس بات پر قائل کر لیا ہے کہ وہ آزاد ہیں جبکہ اصل میں اُس نے اُنہیں اپنا غلام بنا رکھا ہے۔‏ اِس مضمون میں ہم شیطان کے کچھ ایسے حربوں پر بات کریں گے جن کے ذریعے وہ لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتا ہے۔‏

^ پیراگراف 9 ہوسیع 2:‏16،‏ 17 ‏(‏اُردو جیو ورشن)‏:‏ ‏”‏رب فرماتا ہے،‏ ”‏اُس دن تُو مجھے پکارتے وقت ’‏اے میرے بعل‘‏ نہیں کہے گی بلکہ ’‏اے میرے خاوند۔‏‘‏ مَیں بعل دیوتاؤں کے نام تیرے مُنہ سے نکال دوں گا،‏ اور تُو آئندہ اُن کے ناموں کا ذکر تک نہیں کرے گی۔‏“‏“‏

^ پیراگراف 49 تصویر کی وضاحت‏:‏ اِسرائیلی،‏ کنعانیوں کے ساتھ میل جول رکھنے کی وجہ سے بعل کی پرستش اور حرام‌کاری کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔‏

^ پیراگراف 52 تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک ایسے چرچ کا اِشتہار جو ہم‌جنس‌پرستی کو قابلِ‌قبول قرار دیتا ہے۔‏

^ پیراگراف 54 تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک نوجوان بہن نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے۔‏ وہ اور اُس کے ہم‌جماعت اپنی پروفیسر کی اِس دلیل پر قائل ہو رہے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی اِنسان کے تمام مسئلوں کا حل ہے۔‏ بعد میں وہ بہن کنگڈم ہال میں بیٹھی ہے۔‏ اُس کے چہرے سے اُکتاہٹ نظر آ رہی ہے اور وہ تنقیدی سوچ کا شکار ہو گئی ہے۔‏