مینارِنگہبانی

ایک بیش‌قیمت تحفہ

اُردو
ایک بیش‌قیمت تحفہ
https://cms-imgp.jw-cdn.org/img/p/2017043/univ/art/2017043_univ_sqr_xl.jpg

سرِورق کا موضوع | آپ کے لیے خدا کا بیش‌قیمت تحفہ

ایک بیش‌قیمت تحفہ

ایک بیش‌قیمت تحفہ

جورڈن کے ہاتھ میں کشتی کی شکل والا شارپنر بہت معمولی سا لگتا ہے۔‏ لیکن جورڈن کے لیے یہ بہت بیش‌قیمت ہے۔‏ جورڈن کہتے ہیں:‏ ”‏جب مَیں چھوٹا تھا تو انکل رسل نے مجھے یہ شارپنر دیا تھا۔‏ اُن کے ہمارے خاندان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔‏“‏ رسل کی موت کے بعد جورڈن کو پتہ چلا کہ رسل نے جورڈن کے نانا اور والدین کا مشکل وقت میں بہت ساتھ دیا تھا۔‏ جورڈن کہتے ہیں:‏ ”‏جب سے مجھے پتہ چلا ہے کہ انکل رسل نے میرے گھر والوں کی کتنی مدد کی تھی تب سے یہ چھوٹا سا تحفہ میرے لیے اَور بھی قیمتی ہو گیا ہے۔‏“‏

جورڈن کی مثال سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگوں کی نظر میں شاید ایک تحفہ بہت معمولی ہو۔‏ لیکن جس شخص کو وہ تحفہ دیا جاتا ہے،‏ اُس کے نزدیک شاید وہ بہت بیش‌قیمت اور انمول ہو۔‏ پاک کلام میں ایک ایسے تحفے کے بارے میں بتایا گیا ہے جس کی قدروقیمت کا اندازہ بھی نہیں لگا‌یا جا سکتا۔‏ اِس میں لکھا ہے:‏ ”‏خدا کو دُنیا سے اِتنی محبت ہے کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا * دے دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان ظاہر کرے،‏ وہ ہلا‌ک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‏“‏—‏یوحنا 3:‏16‏۔‏

یہ ایک ایسا تحفہ ہے جسے قبول کرنے والوں کو ہمیشہ کی زندگی مل سکتی ہے۔‏ ذرا سوچیں کہ کیا کوئی تحفہ اِس سے زیادہ بیش‌قیمت ہو سکتا ہے؟‏ شاید کچھ لوگ اِس تحفے کی اہمیت کو نہ سمجھ پائیں لیکن سچے مسیحی اِسے بہت قیمتی خیال کرتے ہیں۔‏ (‏زبور 49:‏8؛‏ 1-‏پطرس 1:‏18،‏ 19‏)‏ مگر خدا نے اِنسانوں کو یہ تحفہ کیوں دیا؟‏

خدا کے ایک بندے پولُس نے اِس کی وجہ یوں بتائی:‏ ”‏ایک آدمی کے ذریعے گُناہ دُنیا میں آیا اور گُناہ کے ذریعے موت آئی اور موت سب لوگوں میں پھیل گئی کیونکہ سب نے گُناہ کِیا۔‏“‏ (‏رومیوں 5:‏12‏)‏ آدم نے جان بُوجھ کر خدا کی نافرمانی کی۔‏ اِس طرح اُنہوں نے گُناہ کِیا جس کی وجہ سے اُنہیں موت کی سزا سنائی گئی۔‏ چونکہ تمام اِنسان آدم کی اولاد ہیں اِس لیے وہ بھی مرتے ہیں۔‏

پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏گُناہ کی مزدوری موت ہے لیکن خدا کی نعمت ہمیشہ کی زندگی ہے جو ہمیں اپنے مالک مسیح یسوع کے ذریعے ملتی ہے۔‏“‏ (‏رومیوں 6:‏23‏)‏ خدا نے یسوع مسیح کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ اپنی بےعیب زندگی قربان کر کے اِنسانوں کو موت کی قید سے چھڑائیں۔‏ پاک کلام میں یسوع مسیح کی قربانی کو ”‏فدیہ“‏ کہا گیا ہے۔‏ اِس فدیے کی بِنا پر اُن تمام لوگوں کو ہمیشہ کی زندگی ملے گی جو یسوع مسیح پر ایمان ظاہر کرتے ہیں۔‏—‏رومیوں 3:‏24‏۔‏

پولُس رسول نے اُن برکتوں کا ذکر کِیا جو خدا یسوع مسیح کے ذریعے اپنے بندوں کو دیتا ہے۔‏ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آئیں،‏ اِس ناقابلِ‌بیان نعمت کے لیے خدا کا شکر ادا کریں۔‏“‏ (‏2-‏کُرنتھیوں 9:‏15‏)‏ فدیہ اِتنی شان‌دار نعمت ہے کہ اِسے لفظوں میں بیان نہیں کِیا جا سکتا۔‏ لیکن خدا کی تمام نعمتوں میں سے فدیہ سب سے بیش‌قیمت کیوں ہے؟‏ یہ خدا کی باقی تمام نعمتوں سے فرق کیسے ہے؟‏ * ہمیں اِس سلسلے میں کیسا ردِعمل ظاہر کرنا چاہیے؟‏ اگلے دو مضامین میں پاک کلام سے اِن سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں۔‏

^ پیراگراف 4 یسوع مسیح وہ واحد ہستی ہیں جنہیں خدا نے براہِ‌راست بنایا تھا۔‏ اِسی لیے اُنہیں خدا کا اِکلوتا بیٹا کہا جاتا ہے۔‏

^ پیراگراف 8 یسوع مسیح نے خوشی سے ”‏ہمارے لیے جان دے دی۔‏“‏ (‏1-‏یوحنا 3:‏16‏)‏ لیکن یسوع مسیح کی قربانی زمین اور اِنسانوں کے سلسلے میں خدا کے مقصد کا حصہ تھی۔‏ اِس لیے اِن مضامین میں اِس بات کو نمایاں کِیا گیا ہے کہ خدا نے فدیے کا بندوبست کیسے کِیا۔‏