مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 پاک صحیفوں کی روشنی میں

وقت کی پابندی

وقت کی پابندی

بہت سے ایسے لوگ بھی جنہیں وقت پر کام کرنے کی عادت نہیں ہوتی،‏ یہ مانتے ہیں کہ وقت کی پابندی کرنا اچھی بات ہے۔‏ پاک کلام میں اِس حوالے سے بہت اچھے مشورے دیے گئے ہیں۔‏

وقت کی پابندی کرنا کیوں ضروری ہے؟‏

یہ کیوں اہم ہے؟‏

کچھ لوگوں نے دیکھا ہے کہ جب وہ طےشُدہ وقت سے پہلے کہیں پہنچ جاتے ہیں تو اُنہیں کم ذہنی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔‏ لوگ اُس شخص کی زیادہ عزت کرتے ہیں جو وقت کی پابندی کرتا ہے۔‏ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏

وقت کی پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص کتنا منظم ہے۔‏ جب آپ ہر کام وقت پر کرتے ہیں تو اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنی زندگی کو منظم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے حالات کو یہ اِجازت نہیں دے رہے کہ آپ کو وہ کام کرنے سے روکیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔‏

وقت کی پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص کتنا قابلِ‌بھروسا ہے۔‏ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں لوگ اکثر وعدوں کو توڑ دیتے ہیں یا اِنہیں نظرانداز کر دیتے ہیں۔‏ اِس لیے اُن لوگوں کی بڑی قدر کی جاتی ہے جو اپنی بات پر قائم رہتے ہیں۔‏ جو لوگ خود کو قابلِ‌بھروسا ثابت کرتے ہیں،‏ اُن کے گھر والے اور دوست اُن کی عزت کرتے ہیں۔‏ ایسے ملازموں کی بھی قدر کی جاتی ہے جو وقت پر کام پر آتے ہیں اور مقررہ وقت سے پہلے اپنا کام مکمل کر لیتے ہیں،‏ یہاں تک کہ اُنہیں اچھی تنخواہ دی جاتی ہے اور اُن پر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بھروسا کِیا جاتا ہے۔‏

پاک صحیفوں کی تعلیم

‏:‏ پاک کلام سے وقت کی پابندی کرنے کی اہمیت پتہ چلتی ہے۔‏ مثال کے طور پر پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏سب باتیں مناسب طریقے سے اور منظم انداز میں کی جائیں۔‏“‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 14:‏40‏)‏ جب دو لوگ طے کرتے ہیں کہ وہ فلاں وقت پر فلاں جگہ ملیں گے تو مناسب ہوگا کہ وہ وقت کی پابندی کریں۔‏ پاک کلام میں یہ بھی لکھا ہے:‏ ”‏ہر چیز کا ایک موقع اور ہر کام کا جو آسمان کے نیچے ہوتا ہے ایک وقت ہے۔‏“‏ (‏واعظ 3:‏1‏)‏ اِس سے اگلی آیت میں لکھا ہے:‏”‏درخت لگانے کا ایک وقت ہے اور لگائے ہوئے کو اُکھاڑنے کا ایک وقت ہے۔‏“‏ (‏واعظ 3:‏2‏)‏ کسان اپنی فصل صحیح وقت پر بوتا ہے تاکہ وہ اِسے صحیح وقت پر کاٹ سکے۔‏ دوسرے لفظوں میں کہیں تو جب ایک کسان وقت کی پابندی کرتا ہے تو اُسے اچھے نتائج ملتے ہیں۔‏

پاک کلام میں وقت کی پابندی کرنے کی ایک اَور اہم وجہ بھی بتائی گئی ہے۔‏ وقت کی پابندی کرنے سے ایک شخص ظاہر کرتا ہے کہ وہ دوسروں کی عزت کرتا ہے اور اُن کے قیمتی وقت کی قدر کرتا ہے۔‏ (‏فِلپّیوں 2:‏3،‏ 4‏)‏ لیکن جن لوگوں کو دوسروں کو اِنتظار کرانے کی عادت ہوتی ہے،‏ وہ ایک لحاظ سے دوسروں کے وقت کی چوری کر رہے ہوتے ہیں۔‏

‏”‏صرف اپنے فائدے کا ہی نہیں بلکہ دوسروں کے فائدے کا بھی سوچیں۔‏“‏‏—‏فِلپّیوں 2:‏4‏۔‏

 آپ وقت کی پابندی کیسے کر سکتے ہیں؟‏

پاک صحیفوں کی تعلیم

‏:‏ پاک کلام میں ہماری حوصلہ‌افزائی کی گئی ہے کہ ہم پہلے سے منصوبے بنائیں۔‏ (‏امثال 21:‏5‏)‏ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ آپ اکثر طےشُدہ وقت کی پابندی نہیں کر پاتے تو شاید آپ نے اپنے شیڈول میں بہت کچھ شامل کر رکھا ہے۔‏ کیوں نہ ایسے غیرضروری کاموں کو اپنے شیڈول سے نکال دیں جن میں وقت ضائع ہوتا ہے؟‏ جب آپ فرق فرق لوگوں سے ملاقات کا وقت طے کرتے ہیں تو بیچ میں تھوڑا وقفہ رکھیں تاکہ آپ وقت پر ہر ایک کے پاس پہنچ سکیں۔‏ ایسا کرنے سے آپ کے پاس ٹریفک کے رش یا خراب موسم جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے تھوڑا وقت ہوگا۔‏

پاک کلام میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہمیں خاکسار ہونا چاہیے۔‏ (‏امثال 11:‏2‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ کچھ کام ہمارے بس میں ہیں اور کچھ نہیں۔‏ کوئی وعدہ کرنے یا کسی کام کو مقررہ وقت تک ختم کرنے کی حامی بھرنے سے پہلے اپنے شیڈول کا جائزہ لیں تاکہ آپ یہ دیکھ سکیں کہ آیا آپ ایسا کر سکیں گے یا نہیں۔‏ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ خود بھی ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہوں گے اور دوسروں کو بھی کریں گے۔‏

اِس کے علاوہ پاک کلام میں وقت کا بہترین اِستعمال کرنے کی حوصلہ‌افزائی کی گئی ہے۔‏ (‏اِفسیوں 5:‏15،‏ 16‏)‏ زیادہ اہم کاموں کو پہلے کریں۔‏ (‏فِلپّیوں 1:‏10‏)‏ مثال کے طور پر اگر آپ بس میں سفر کر رہے ہیں یا کسی کا اِنتظار کر رہے ہیں تو آپ کوئی ایسی کتاب یا فائل وغیرہ پڑھ سکتے ہیں جسے پڑھنے کا آپ کو وقت نہیں مل رہا یا اُن کاموں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو آپ نے اُس دن کے دوران کرنے ہیں۔‏

‏”‏محنتی کی تدبیریں یقیناً فراوانی کا باعث ہیں۔‏“‏‏—‏امثال 21:‏5‏۔‏