پانچواں سبق
بڑوں کی رہنمائی کے فائدے
بچوں کو کس کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے؟
بچوں کو بڑوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ اُنہیں صحیح راہ دِکھا سکتے ہیں اور اُنہیں اچھی صلاح دے سکتے ہیں۔ ماں باپ ہونے کے ناتے آپ اپنے بچوں کی سب سے اچھی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ دراصل ایسا کرنا آپ کی ذمےداری ہے۔ لیکن دوسرے لوگوں کی صلاح بھی آپ کے بچوں کے بڑے کام آ سکتی ہے۔
بڑوں کی رہنمائی کیوں ضروری ہوتی ہے؟
بہت سے ملکوں میں بچے بڑوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارتے ہیں۔ ذرا اِس کی کچھ وجوہات پر غور کریں:
-
بچے زیادہتر وقت سکول میں ہوتے ہیں جہاں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جبکہ ٹیچروں اور بڑے لوگوں کی تعداد کم۔
-
کئی بچوں کے ماں اور باپ دونوں ہی نوکریاں کرتے ہیں۔ اِس لیے جب وہ سکول سے گھر آتے ہیں تو اُنہیں اکیلے رہنا پڑتا ہے۔
-
امریکہ میں ہونے والے ایک جائزے سے پتہ چلا کہ 8 سے 12 سال کے بچے ہر دن تقریباً چھ گھنٹے ٹیوی دیکھتے ہیں، گانے سنتے ہیں اور ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔ *
بچوں کی پرورش کے حوالے سے ایک کتاب میں بتایا گیا: ”آجکل بچے اپنے ماں باپ، ٹیچروں یا بڑے لوگوں سے نہیں بلکہ اپنی عمر کے بچوں سے صلاح مشورہ لینا پسند کرتے ہیں۔“
بچوں کی رہنمائی کیسے کریں؟
اپنے بچے کے ساتھ وقت گزاریں۔
پاک کلام کا اصول: ”لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مُڑے گا۔“—امثال 22:6۔
چھوٹے بچے عموماً اپنے ماں باپ سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ ماہروں کا کہنا ہے کہ جب بچے بڑے ہو رہے ہوتے ہیں تو تب بھی وہ اپنے ساتھیوں سے زیادہ اپنے ماں باپ کی سنتے ہیں۔ ڈاکٹر لورنس سٹینبرگ نے اپنی کتاب میں لکھا: ”جب بچے جوان ہو جاتے ہیں تو تب بھی اُن کی سوچ اور رویے پر کافی حد تک اُن کے ماں باپ کا اثر ہوتا ہے۔ بھلے ہی وہ اپنے ماں باپ کو یہ نہ بتائیں کہ اُنہیں اُن کی رہنمائی کی ضرورت ہے یا بھلے ہی وہ اُن کی ہر بات سے متفق نہ ہوں، وہ پھر بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فلاں معاملے میں اُن کے ماں باپ کی کیا رائے ہے اور جو کچھ وہ اُنہیں کہتا سنتے ہیں، اُس پر وہ دھیان دیتے ہیں۔“
تو والدین! جب بھی آپ کو موقع ملے، اپنے بچوں کی رہنمائی کریں کیونکہ وہ آپ ہی سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں اور اُنہیں بتائیں کہ کسی مسئلے کے بارے میں آپ کی سوچ کیا ہے، آپ کے اصول کیا ہیں اور آپ نے اپنے تجربے سے کیا سیکھا ہے۔
اپنے بچے کی ایسے لوگوں سے دوستی کرائیں جو اُسے اچھی صلاح دے سکتے ہیں۔
پاک کلام کا اصول: ”وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا۔“—امثال 13:20۔
کیا آپ کی نظر میں کوئی ایسا شخص ہے جو آپ کے بچوں کو اچھی صلاح دے سکے؟ کیوں نہ اِس بات کا بندوبست بنائیں کہ وہ آپ کے بچوں کے ساتھ تھوڑا وقت گزارے؟ یہ سچ ہے کہ آپ کو اپنی ذمےداری سے مُنہ نہیں موڑ لینا چاہیے۔ آپ کی دی ہوئی رہنمائی اُن کے بہت کام آئے گی۔ لیکن اگر آپ کے ساتھ ساتھ ایک اَور شخص بھی اُنہیں اچھی صلاح دے تو اُنہیں دُگنا فائدہ ہوگا۔ مگر اِس بات کا خیال رکھیں کہ یہ ایک ایسا شخص ہو جس پر آپ کو یہ بھروسا ہو کہ وہ آپ کے بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ تیمُتھیُس کو پولُس رسول کے ساتھ وقت گزار کر کافی فائدہ ہوا حالانکہ تیمُتھیُس نوجوان نہیں تھے۔ پولُس کو بھی تیمُتھیُس کی دوستی سے فائدہ ہوا۔—فِلپّیوں 2:20، 22۔
آجکل بہت سے گھرانوں میں گھر کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہتے۔ دادا دادی، چاچا چاچی اور دوسرے رشتےدار الگ الگ جگہوں پر رہتے ہیں۔ اگر آپ کے رشتےدار بھی آپ سے دُور رہتے ہیں تو اپنے بچوں کی دوستی ایسے لوگوں سے کرائیں جن سے وہ اچھی عادتیں اپنانا سیکھ سکیں۔
^ پیراگراف 9 اُس جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ”چھوٹی عمر کے بچے ہر دن تقریباً نو گھنٹے اِس طرح کی تفریح کرنے میں گزارتے ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ سکول کا ہوم ورک کرتے وقت یا سکول میں بھی اِنٹرنیٹ پر کافی وقت صرف کرتے ہیں۔“

