مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 گھریلو زندگی کو خوشگوار بنائیں | بچوں کی پرورش

بچوں کو خاکسار بننا کیسے سکھائیں؟‏

بچوں کو خاکسار بننا کیسے سکھائیں؟‏

مسئلہ

  • آپ کے بیٹے میں غرور پیدا ہو رہا ہے حالانکہ وہ بس دس سال کا ہے۔‏

  • وہ چاہتا ہے کہ ہر کوئی اُسے سر آنکھوں پر بٹھائے۔‏

شاید آپ سوچیں:‏ ”‏وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟‏ مَیں یہ چاہتا ہوں کہ وہ خود اِعتماد ہو،‏ یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو کم‌تر خیال کرے۔‏“‏

کیا بچوں کی عزتِ‌نفس کو ٹھیس پہنچائے بغیر اُنہیں خاکسار بننا سکھایا جا سکتا ہے؟‏

اِن باتوں کو ذہن میں رکھیں

پچھلے کچھ دہوں سے ماں باپ کی حوصلہ‌افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ بچوں کی ہر خواہش کو پورا کریں اور کُھل کر اُن کی تعریف کریں،‏ چاہے اُنہوں نے کوئی قابلِ‌تعریف کام نہ بھی کِیا ہو۔‏ والدین کی یہ حوصلہ‌افزائی بھی کی جاتی رہی ہے کہ وہ بچوں کی اِصلاح اور درستی نہ کریں۔‏ یہ خیال کِیا جاتا تھا کہ اگر بچوں کو یہ احساس دِلایا جائے گا کہ وہ بڑے خاص ہیں تو وہ زیادہ پُراِعتماد ہو جائیں گے۔‏ لیکن اِس کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟‏ ایک کتاب میں بتایا گیا ہے:‏ ”‏بچوں کو خوداِعتماد بنانے کی تحریک سے بچے خوش‌مزاج اور سمجھ‌دار ہونے کی بجائے خودغرض اور مغرور ہو گئے ہیں۔‏“‏—‏کتاب ‏”‏خودپرست نسل“‏ ‏(‏انگریزی میں دستیاب)‏۔‏

جن بچوں کی بِلاوجہ تعریف کی جاتی ہے،‏ اُن میں سے بہت سے بچوں کے لیے بڑے ہو کر مایوسی،‏ تنقید اور ناکامی کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔‏ چونکہ اُنہیں بچپن ہی سے سکھایا جاتا ہے کہ وہ صرف اور صرف اپنی خواہشوں کے بارے میں سوچیں اِس لیے اُنہیں دوسروں سے دوستی کرنا اور اِسے برقرار رکھنا مشکل لگتا ہے۔‏ اِس کے نتیجے میں بہت سے نوجوان پریشانی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔‏

بچوں میں حقیقی خوداِعتمادی اُنہیں یہ بتاتے رہنے سے پیدا نہیں ہوتی کہ وہ بڑے خاص ہیں بلکہ اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ زندگی میں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔‏ اِس کے لیے صرف خود پر اِعتماد ہونا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر نئی نئی صلاحیتیں پیدا کریں،‏ اِنہیں نکھارتے رہیں اور محنت کریں۔‏ (‏امثال 22:‏29‏)‏ اِس کے علاوہ اُنہیں دوسروں کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 10:‏24‏)‏ اور یہ سب کچھ کرنے کے لیے خاکساری بہت ضروری ہے۔‏

 آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

بچوں کو اُس وقت داد دیں جب وہ قابلِ‌تعریف کام کرتے ہیں۔‏ اگر آپ کی بیٹی اِمتحان میں اچھے نمبر لاتی ہے تو اُسے شاباش دیں۔‏ اگر اُس کے نمبر اچھے نہیں آتے تو اُس کے اُستادوں کو قصوروار نہ ٹھہرائیں۔‏ اِس سے آپ کی بیٹی خاکسار بننا نہیں سیکھے گی۔‏ اِس کی بجائے اُس کی مدد کریں تاکہ وہ اگلے اِمتحان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔‏ بچوں کو داد اُسی وقت دیں جب وہ واقعی کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔‏

غلطی کرنے پر بچوں کی اِصلاح کریں۔‏ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہر غلطی پر اپنے بچے کو ڈانٹ پلائیں۔‏ (‏کُلسّیوں 3:‏21‏)‏ لیکن اگر وہ کوئی بڑی غلطی کرتا ہے تو اُس کی درستی کرنا لازمی ہے۔‏ اُس کی اِصلاح کرنا اُس وقت بھی ضروری ہے جب وہ غلط رویہ ظاہر کرتا ہے۔‏ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو یہ چیزیں اُس کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی۔‏

فرض کریں کہ آپ کے بیٹے میں بات بات پر شیخی مارنے کی عادت پیدا ہو رہی ہے۔‏ اگر آپ اُس کی اِصلاح نہیں کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ مغرور بن جائے اور دوسروں سے گھلنا ملنا پسند نہ کرے۔‏ اِس لیے اُسے سمجھائیں کہ شیخی مارنے کی وجہ سے لوگ اُسے اچھا نہیں سمجھیں گے اور اُسے شرمندگی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔‏ (‏امثال 27:‏2‏)‏ اُسے یہ بھی بتائیں کہ جو شخص اپنے بارے میں مناسب نظریہ رکھتا ہے،‏ اُسے دوسروں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا چرچا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‏ اگر آپ محبت سے اپنے بچوں کی اِس طرح اِصلاح کریں گے تو اُن کی عزتِ‌نفس کو ٹھیس نہیں پہنچے گی اور وہ خاکسار بننا بھی سیکھ جائیں گے۔‏‏—‏پاک کلام کا اصول:‏ متی 23:‏12‏۔‏

بچے کو زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار کریں۔‏ اگر آپ بچے کی ہر خواہش پوری کریں گے تو شاید وہ سوچنے لگے کہ یہ اُس کا حق ہے۔‏ فرض کریں کہ آپ کا بچہ کسی ایسی چیز کی فرمائش کرتا ہے جو آپ اُسے نہیں دِلا سکتے تو اُسے سمجھائیں کہ یہ کیوں اہم ہے کہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے جائیں۔‏ اگر آپ نے چھٹی پر جانے یا کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بنایا ہے لیکن آپ کو اِسے کینسل کرنا پڑتا ہے تو بچے کو سمجھائیں کہ مایوسیاں زندگی کا حصہ ہیں۔‏ اُسے یہ بھی بتائیں کہ آپ ایسی مایوسیوں پر قابو پانے کے لیے کیا کرتے ہیں۔‏ اپنے بچے کو ہر مشکل سے بچا بچا کر رکھنے کی بجائے اُسے اُن مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں جو بڑے ہو کر اُس کی زندگی میں آئیں گی۔‏‏—‏پاک کلام کا اصول:‏ امثال 29:‏21‏۔‏

بچے کی حوصلہ‌افزائی کریں کہ وہ اپنے اندر دوسروں کو دینے کا جذبہ پیدا کرے۔‏ اپنے بچے کو اِس بات کا ثبوت دیں کہ ”‏لینے کی نسبت دینے میں زیادہ خوشی ہے۔‏“‏ (‏اعمال 20:‏35‏)‏ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏ آپ اپنے بچے کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں کی فہرست بنا سکتے ہیں جنہیں خریداری کرنے،‏ کہیں آنے جانے یا گھر کی مرمت کرنے کے سلسلے میں مدد کی ضرورت ہے۔‏ ایسے لوگوں کی مدد کرتے وقت اپنے بچے کو ساتھ لے جائیں۔‏ پھر وہ یہ دیکھ پائے گا کہ آپ کو دوسروں کی مدد کر کے کتنی خوشی اور اِطمینان ملتا ہے۔‏ یوں آپ اپنی مثال کے ذریعے بچے کو خاکسار بننا سکھا سکیں گے جو کہ بچوں کو سکھانے کا سب سے عمدہ طریقہ ہے۔‏‏—‏پاک کلام کا اصول:‏ لُوقا 6:‏38‏۔‏