سرِورق کا موضوع | کیا دُنیا کے حالات قابو سے باہر ہیں؟
کیا دُنیا کے حالات قابو سے باہر ہیں یا نہیں؟
سن 2017ء کے شروع میں سائنسدانوں نے دُنیا کو ایک بُری خبر سنائی۔ یہ خبر کیا تھی؟ جنوری کے مہینے میں سائنسدانوں کے ایک گروہ نے اِعلان کِیا کہ دُنیا ایک ایسی تباہی کا شکار ہونے والی ہے جیسی پہلے کبھی نہیں آئی۔ یہ واضح کرنے کے لیے کہ دُنیا پر تباہی آنے میں کتنا کم وقت رہ گیا ہے، اُنہوں نے تباہی کی علامتی گھڑی کو 30 سیکنڈ آگے کر دیا۔ اب اِس علامتی گھڑی پر رات کے بارہ بجنے میں صرف ڈھائی منٹ باقی ہیں۔ 60 سال سے زیادہ عرصے کے بعد ایسا ہوا ہے کہ گھڑی پر بارہ بجنے میں یعنی دُنیا پر تباہی آنے میں اِتنا کم وقت دِکھایا گیا ہے۔
سائنسدانوں نے طے کِیا ہے کہ وہ 2018ء میں پھر سے حساب لگائیں گے کہ دُنیا کی تباہی میں کتنا وقت رہ گیا ہے۔ کیا اُس وقت بھی تباہی کی علامتی گھڑی اِس بات کا اِشارہ دے گی کہ جلد ہی ایک بہت بڑی تباہی آنے والی ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا دُنیا کے حالات قابو سے باہر ہیں؟ شاید آپ کو اِس سوال کا جواب دینا مشکل لگے کیونکہ اِس موضوع کے بارے میں ماہرین کی رائے فرق فرق ہے۔ ہر شخص یہ نہیں مانتا کہ دُنیا پر تباہی آنے والی ہے۔
لاکھوں لوگ ایک روشن مستقبل کی اُمید رکھتے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے پاس اِس بات کا ثبوت ہے کہ اِنسان اور زمین کبھی ختم نہیں ہوں گے اور اِنسانوں کی زندگی بہتر ہو جائے گی۔ کیا یہ ثبوت قابلِبھروسا ہے؟ کیا دُنیا کے حالات قابو سے باہر ہیں یا نہیں؟

