حصہ 6
بچے کی پیدائش کا آپ کی زندگی پر اثر
”دیکھو! اولاد [یہوواہ] کی طرف سے میراث ہے۔“—زبور 127:3
بچے کی پیدائش بڑی خوشی کا باعث ہوتی ہے لیکن اِس کے ساتھ آپ کی زندگی میں کچھ مشکلات بھی آتی ہیں۔ اگر آپ حال ہی میں والدین بنے ہیں تو شاید آپ اِس بات پر حیران ہوں گے کہ بچے کی دیکھبھال میں کتنا وقت اور کتنی توانائی لگتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی نیند پوری نہ ہو اور آپ کو نئی صورتحال سے نپٹنا مشکل لگے۔ اِس وجہ سے آپ کے ازدواجی رشتے میں کھچاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ آپ دونوں کو اپنی زندگی میں کچھ ردوبدل کرنا پڑے گا تاکہ آپ اپنے بچے کی اچھی پرورش کر سکیں اور اپنے رشتے پر بھی کوئی آنچ نہ آنے دیں۔ اِس صورتحال سے نپٹنے میں خدا کے کلام کے کونسے اصول آپ کے کام آئیں گے؟
1 زندگی میں آنے والی تبدیلی کو قبول کریں
خدا کا کلام کیا کہتا ہے؟ ”محبت صابر ہے اور مہربان۔“ اِس کے علاوہ محبت ”اپنی بہتری نہیں چاہتی“ اور ”جھنجھلاتی نہیں۔“ (1-کرنتھیوں 13:4، 5) ایک نئی ماں ہونے کے ناتے یہ فطرتی بات ہے کہ آپ کی زیادہتر توجہ اپنے بچے پر رہتی ہے۔ اِس صورتحال میں شاید آپ کے شوہر کو لگے کہ آپ اُسے نظرانداز کر رہی ہیں۔ اِس لیے یہ نہ بھولیں کہ آپ کے شوہر کو بھی آپ کی توجہ اور وقت کی ضرورت ہے۔ صبر اور مہربانی سے کام لیں اور اُسے احساس دِلائیں کہ وہ آپ کے لیے بہت خاص ہے اور بچے کی دیکھبھال میں اُس کا بھی بہت اہم کردار ہے۔
”اَے شوہرو! تُم بھی بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرو۔“ (1-پطرس 3:7) یاد رکھیں کہ آپ کی بیوی اپنی زیادہتر توانائی بچے کی دیکھبھال میں صرف کرتی ہے۔ اُس پر بہت سی نئی ذمےداریاں آن پڑی ہیں اور اِس لیے شاید وہ بہت تھک جائے، ذہنی دباؤ کا شکار ہو، یہاں تک کہ ڈپریشن میں مبتلا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کبھیکبھار وہ آپ پر بھی غصہ کرنے لگے۔ ایسی صورت میں آپ ٹھنڈے رہنے کی کوشش کریں کیونکہ ”جو قہر کرنے میں دھیما ہے پہلوان سے بہتر ہے۔“ (امثال 16:32) لہٰذا سمجھداری سے کام لیں اور اِس نئی ذمےداری کو نبھانے میں اپنی بیوی کی پوری حمایت کریں۔—امثال 14:29۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
-
باپ: بچے کو سنبھالنے میں اپنی بیوی کی مدد کریں، یہاں تک کہ رات کو بھی۔ دوسرے کاموں سے وقت نکالیں تاکہ آپ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ زیادہ وقت صرف کر سکیں۔
-
ماں: جب آپ کا شوہر بچے کی دیکھبھال میں آپ کا ہاتھ بٹانا چاہتا ہے تو اُس کی مدد کو قبول کریں۔ اگر وہ کوئی کام ٹھیک سے نہیں کر پاتا تو اُس پر تنقید نہ کریں بلکہ پیار سے اُسے دِکھائیں کہ وہ یہ کام کیسے کر سکتا ہے۔
2 اپنے ازدواجی بندھن کو مضبوط کریں
خدا کا کلام کیا کہتا ہے؟ ”وہ ایک تن ہوں گے۔“ (پیدایش 2:24) حالانکہ آپ کے گھر میں ایک نیا مہمان آ گیا ہے لیکن یہ نہ بھولیں کہ آپ اور آپ کا جیونساتھی ابھی بھی ”ایک تن“ ہیں۔ لہٰذا اپنے ازدواجی بندھن کو مضبوط رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
بیوی کو اپنے شوہر کی مدد اور حمایت کے لیے شکرگزار ہونا چاہیے۔ خدا کے کلام میں لکھا ہے: ”دانشمند کی زبان صحتبخش ہے۔“ اِس لیے اگر آپ اپنے شوہر کے لیے قدر کا اِظہار کرتی ہیں تو آپ کا رشتہ مضبوط ہوگا۔ (امثال 12:18) شوہر کو اپنی بیوی کو بتانا چاہیے کہ وہ اُس سے کتنی محبت کرتا ہے اور اُس کی کتنی قدر کرتا ہے۔ اپنی بیوی کی تعریف کریں کہ وہ کتنے اچھے طریقے سے گھربار کا خیال رکھتی ہے۔—امثال 31:10، 28۔
”کوئی اپنی بہتری نہ ڈھونڈے بلکہ دوسرے کی۔“ (1-کرنتھیوں 10:24) ہمیشہ اپنے جیونساتھی کی بھلائی کے لیے کام کریں۔ ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے وقت نکالیں، ایک دوسرے کو داد دیں اور ایک دوسرے کی بات کو دھیان سے سنیں۔ جب جنسی تعلقات کی بات آتی ہے تو اپنے جیونساتھی کی ضروریات کا لحاظ رکھیں۔ خدا کے کلام میں لکھا ہے: ”تُم ایک دوسرے سے جُدا نہ رہو۔“ (1-کرنتھیوں 7:3-5) لہٰذا اِس موضوع پر کُھل کر بات کریں۔ ایک دوسرے کا لحاظ رکھنے سے آپ کا رشتہ مضبوط ہوگا۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
-
باقاعدگی سے وقت نکالیں تاکہ آپ دونوں اکیلے میں وقت گزار سکیں۔
-
اپنے جیونساتھی کو اپنی محبت کا احساس دِلائیں، مثلاً اُسے کبھیکبھی کوئی کارڈ یا تحفہ دیں۔
3 اپنے بچے کی تربیت کریں
خدا کا کلام کیا کہتا ہے؟ ”تُو بچپن سے اُن پاک نوشتوں سے واقف ہے جو تجھے . . . نجات حاصل کرنے کے لئے دانائی بخش سکتے ہیں۔“ (2-تیمتھیس 3:15) آپس میں بات کریں کہ آپ اپنے بچے کی تربیت کیسے کریں گے۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ بچوں میں پیدا ہونے سے پہلے ہی بہت کچھ سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ جب بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو وہ آپ کی آواز کو پہچان سکتا ہے اور آپ کے جذبات کو محسوس کر سکتا ہے۔ جب بچہ چھوٹا ہی ہوتا ہے تو اُسے پڑھ کر سنائیں۔ سچ ہے کہ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں، شاید وہ اُسے نہ سمجھے۔ لیکن اُسے پڑھ کر سنانے سے آپ اُس میں پڑھنے کا شوق پیدا کر رہے ہوں گے۔
اپنے بچے کو بچپن ہی سے خدا کے بارے میں بتائیں۔ اُس کے سامنے یہوواہ خدا سے دُعا کریں۔ (استثنا 11:19) جب آپ اپنے بچے کے ساتھ کھیلتے ہیں تو اُس وقت بھی اُسے خدا کی بنائی ہوئی چیزوں کے بارے میں بتائیں۔ (زبور 78:3، 4) جوںجوں آپ کا بچہ بڑا ہوتا ہے، وہ دیکھے گا کہ آپ اپنے خالق سے کتنی محبت رکھتے ہیں اور یوں وہ بھی یہوواہ خدا سے محبت رکھنا سیکھے گا۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
-
دُعا میں یہوواہ خدا سے دانشمندی مانگیں تاکہ آپ اپنے بچے کی اچھی تربیت کر سکیں۔
-
بچے کے سامنے اہم باتیں باربار دُہرائیں۔ اِس طرح اُس کی سیکھنے کی صلاحیت بڑھے گی۔

