یرمیاہ 33:1-26
33 یرمیاہ محافظوں کے صحن میں قید میں ہی تھے جب یہوواہ کا کلام دوسری بار اُن تک پہنچا اور اُس نے کہا:
2 ”زمین کا خالق یہوواہ، ہاں، یہوواہ جس نے اِسے بنایا اور مضبوطی سے قائم کِیا جس کا نام یہوواہ ہے، فرماتا ہے:
3 ”مجھے پکارو اور مَیں تمہیں جواب دوں گا اور تمہیں ایسی بڑی بڑی باتیں ضرور بتاؤں گا جو تمہاری سمجھ سے باہر ہیں اور جن کے بارے میں تُم نہیں جانتے۔““
4 ”اِسرائیل کا خدا یہوواہ یہ بات اِس شہر کے گھروں اور یہوداہ کے بادشاہوں کے محلوں کے بارے میں فرما رہا ہے جنہیں حملہ کرنے کے لیے بنائی گئی ڈھلانوں اور تلوار کی وجہ سے ڈھا دیا گیا ہے
5 اور اُن لوگوں کے بارے میں بھی جو کسدیوں سے لڑنے کے لیے آ رہے ہیں اور جو اِن جگہوں کو اُن لوگوں کی لاشوں سے بھر رہے ہیں جنہیں مَیں نے اپنے غصے اور اپنے قہر میں مار ڈالا ہے اور جن کی بُرائی کی وجہ سے مَیں نے اِس شہر سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے:
6 ”مَیں اُس کی صحت بحال کروں گا اور اُسے تندرستی بخشوں گا؛ مَیں اُنہیں شفا دوں گا؛ مَیں اُنہیں کثرت سے امنوسکون دوں گا اور اُن پر سچائی ظاہر کروں گا۔
7 مَیں یہوداہ اور اِسرائیل کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو واپس لاؤں گا اور اُنہیں پہلے جیسا بناؤں گا۔
8 مَیں اُن کے سر سے اُن گُناہوں کا ذمہ ہٹا کر اُنہیں پاک کر دوں گا جو اُنہوں نے میرے خلاف کیے ہیں۔ مَیں اُن کے وہ سارے گُناہ اور ساری غلطیاں معاف کر دوں گا جو اُنہوں نے میرے خلاف کی ہیں۔
9 وہ زمین کی اُن سب قوموں کے سامنے میرے لیے خوشی، تعریف اور خوبصورتی کا باعث ہوگا جو اُس ساری اچھائی کے بارے میں سنیں گی جو مَیں اپنے بندوں پر نچھاور کروں گا۔ وہ اُس ساری اچھائی اور امنوسکون کی وجہ سے خوفزدہ ہوں گی اور تھرتھر کانپیں گی جو مَیں اُس پر نچھاور کروں گا۔““
10 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”تُم اِس جگہ کے بارے میں کہو گے کہ یہ ویران ہے اور یہاں کوئی اِنسان یا مویشی نہیں ہے اور یہوداہ کے شہر اور یروشلم کی گلیاں سنسان ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا اور جہاں کوئی اِنسان یا مویشی نہیں ہے۔
11 لیکن وہاں پھر سے خوشی اور جشن کی آواز، دُلہے اور دُلہن کی آواز اور اُن لوگوں کی آواز سنائی دے گی جو کہیں گے: ”فوجوں کے خدا یہوواہ کا شکر کرو کیونکہ یہوواہ اچھا ہے؛ اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے!““
یہوواہ فرماتا ہے: ”وہ یہوواہ کے گھر میں شکرگزاری کے نذرانے لائیں گے کیونکہ مَیں اِس ملک کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو واپس لاؤں گا اور وہ پہلے کی طرح ہو جائیں گے۔““
12 ”فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے: ”اِس ویران ملک میں جہاں کوئی اِنسان یا مویشی نہیں ہے اور اِس کے تمام شہروں میں پھر سے چراگاہیں ہوں گی جہاں چرواہے اپنے گلّوں کو آرام کرائیں گے۔“
13 یہوواہ فرماتا ہے: ”پہاڑی علاقے کے شہروں میں، نشیبی علاقے کے شہروں میں، جنوب کے شہروں میں، بِنیامین کے علاقے میں، یروشلم کے اِردگِرد کے علاقوں میں اور یہوداہ کے شہروں میں گلّے پھر سے چرواہوں کے ہاتھ کے نیچے سے گزریں گے اور وہ اُنہیں گنیں گے۔““
14 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اپنا وہ نیک وعدہ پورا کروں گا جو مَیں نے اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے کے حوالے سے کِیا ہے۔
15 مَیں اُن دنوں میں اور اُس وقت داؤد کے لیے ایک نیک کونپل اُگاؤں گا* اور وہ ملک میں اِنصاف اور نیکی کو قائم کرے گی۔
16 اُن دنوں میں یہوداہ کو بچایا جائے گا اور یروشلم سلامتی سے بسے گا۔ اور اُسے اِس نام سے پکارا جائے گا: یہوواہ ہماری نیکی ہے۔““
17 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”داؤد کی نسل میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو اِسرائیل کے گھرانے کے تخت پر بیٹھے گا
18 اور لاوی کاہنوں میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو میرے حضور کھڑے ہو کر بھسم ہونے والی سالم قربانیاں اور دوسری قربانیاں پیش کرے گا اور اناج کے نذرانے جلائے گا۔““
19 یہوواہ کا کلام ایک بار پھر یرمیاہ تک پہنچا اور اُس نے کہا:
20 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”اگر تُم دن اور رات کے حوالے سے میرا عہد توڑ سکتے ہو تاکہ مقررہ وقت پر دن اور رات نہ ہوں
21 تو پھر ہی میرے بندے داؤد کے ساتھ میرا عہد ٹوٹ سکتا ہے تاکہ بادشاہ کے طور پر اُس کے تخت پر بیٹھنے کے لیے اُس کا کوئی بیٹا نہ ہو اور میرا وہ عہد بھی ٹوٹ سکتا ہے جو مَیں نے اپنے خادموں یعنی لاوی کاہنوں کے ساتھ باندھا ہے۔
22 جیسے آسمان کے ستاروں* اور ساحل کی ریت کے ذرّوں کو گنا نہیں جا سکتا ویسے ہی مَیں اپنے بندے داؤد کی نسل* کو بہت بڑھاؤں گا اور لاویوں کو بھی جو میری خدمت کرتے ہیں۔““
23 یہوواہ کا کلام ایک بار پھر یرمیاہ تک پہنچا اور اُس نے کہا:
24 ”کیا تُم نے غور نہیں کِیا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں کہ ”یہوواہ اُن دو گھرانوں کو رد کر دے گا جنہیں اُس نے چُنا تھا“؟ وہ میرے بندوں کو بےعزت کرتے ہیں اور اب اُنہیں ایک قوم نہیں سمجھتے۔
25 یہوواہ فرماتا ہے: ”جیسے مَیں نے دن اور رات کے حوالے سے پکا عہد کِیا ہے اور آسمان اور زمین کے قوانین بنائے ہیں
26 ویسے ہی مَیں یعقوب اور اپنے بندے داؤد کی نسل* کو کبھی ترک نہیں کروں گا تاکہ ایسا نہ ہو کہ مَیں اَبراہام، اِضحاق اور یعقوب کی اولاد* پر حکمرانی کرنے کے لیے اُس کی نسل* میں سے کوئی حکمران نہ لوں۔ مَیں اُن کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو اِکٹھا کروں گا اور اُن پر ترس کھاؤں گا۔““

