پیدائش 42:1-38
42 جب یعقوب کو پتہ چلا کہ مصر میں اناج ہے تو اُنہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: ”آپ کب تک ایک دوسرے کا مُنہ دیکھتے رہو گے اور کچھ کرو گے نہیں؟
2 مَیں نے سنا ہے کہ مصر میں اناج ہے۔ وہاں جاؤ اور اناج خرید کر لاؤ تاکہ ہم زندہ رہیں اور بھوک سے مر نہ جائیں۔“
3 اِس لیے یوسف کے دس بھائی اناج خریدنے مصر گئے۔
4 لیکن یعقوب نے یوسف کے بھائی بِنیامین کو اُن کے ساتھ نہیں بھیجا کیونکہ اُنہوں نے کہا: ”کہیں اِس کے ساتھ کوئی جانلیوا حادثہ نہ ہو جائے۔“
5 اِسرائیل کے بیٹے بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اناج خریدنے آئے کیونکہ قحط ملک کنعان تک پھیل چُکا تھا۔
6 یوسف کو پورے مصر پر اِختیار حاصل تھا اور وہی زمین کے کونے کونے سے آنے والوں کو اناج بیچتے تھے۔ اِس لیے یوسف کے بھائی اُن کے پاس آئے اور اُن کے سامنے مُنہ کے بل زمین پر جھکے۔
7 جب یوسف نے اپنے بھائیوں کو دیکھا تو اُنہوں نے فوراً اُنہیں پہچان لیا۔ لیکن اُنہوں نے اپنے بھائیوں کو پتہ نہیں چلنے دیا کہ وہ کون ہیں۔ یوسف نے اُن سے سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا: ”تُم لوگ کہاں سے آئے ہو؟“ اُنہوں نے جواب دیا: ”ہم ملک کنعان سے اناج خریدنے آئے ہیں۔“
8 یوسف نے تو اپنے بھائیوں کو پہچان لیا مگر اُنہوں نے یوسف کو نہیں پہچانا۔
9 یوسف کو فوراً وہ خواب یاد آئے جو اُنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں دیکھے تھے۔ اُنہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا: ”تُم جاسوس ہو اور یہ پتہ لگانے آئے ہو کہ ملک کے کن علاقوں پر آسانی سے حملہ کِیا جا سکتا ہے!“*
10 اُنہوں نے کہا: ”نہیں مالک! آپ کے خادم تو اناج خریدنے آئے ہیں۔
11 ہم سب ایک ہی شخص کے بیٹے ہیں۔ ہم سیدھے سادے لوگ ہیں مالک۔ ہم جاسوسی کرنے نہیں آئے۔“
12 مگر یوسف نے اُن سے کہا: ”مجھے تمہاری بات پر یقین نہیں ہے۔ تُم یہ پتہ لگانے آئے ہو کہ ملک کے کن علاقوں پر آسانی سے حملہ کِیا جا سکتا ہے!“
13 اُنہوں نے یوسف سے کہا: ”آپ کے خادم 12 بھائی ہیں اور ایک ہی شخص کے بیٹے ہیں۔ ہمارے والد ملک کنعان میں رہتے ہیں۔ ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ہمارے والد کے پاس ہے جبکہ ایک بھائی اب نہیں رہا۔“
14 مگر یوسف نے اُن سے کہا: ”مَیں نے کہا نا، تُم جاسوس ہو!
15 لیکن ایک طریقہ ہے جس سے حقیقت سامنے آ جائے گی۔ فِرعون کی جان کی قسم، تُم تب تک یہاں سے نہیں جا سکو گے جب تک تمہارا سب سے چھوٹا بھائی یہاں نہیں آئے گا۔
16 تُم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو لینے جائے گا جبکہ باقی سب یہاں حراست میں رہیں گے۔ اِس طرح پتہ چل جائے گا کہ تُم سچ بول رہے ہو یا نہیں۔ اور اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو فِرعون کی جان کی قسم، تُم جاسوس ہی ہو۔“
17 پھر یوسف نے اُن سب کو تین دن کے لیے حراست میں رکھا۔
18 تیسرے دن یوسف نے اُن سے کہا: ”مَیں خدا کا خوف رکھتا ہوں۔ اِس لیے اگر تُم میری بات مانو گے تو تمہاری جان بخش دی جائے گی۔
19 اگر تُم سچے ہو تو تُم میں سے ایک یہاں اِس جگہ رہے جہاں تمہیں حراست میں رکھا گیا ہے اور باقی سب اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے اناج لے جائیں۔
20 پھر اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لاؤ۔ اِس طرح ثابت ہو جائے گا کہ تُم سچ بول رہے ہو اور تمہاری جان بخش دی جائے گی۔“ یوسف کے بھائیوں نے ویسا ہی کِیا جیسا یوسف نے کہا تھا۔
21 پھر اُنہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ”بےشک ہمیں اُسی کی سزا مل رہی ہے جو ہم نے اپنے بھائی کے ساتھ کِیا تھا۔ ہمارا بھائی* اُس وقت کتنی اذیت میں تھا جب وہ گڑگڑا کر ہم سے رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔ لیکن ہم نے اُس کی ایک نہ سنی۔ اِسی لیے ہمیں اِس پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔“
22 تب رُوبِن نے اُن سے کہا: ”مَیں نے تُم سے کہا تھا نا کہ اُس بچے کے ساتھ کچھ بُرا نہ کرو۔ لیکن تُم نے میری بات نہیں مانی۔ اب ہم سے اُس کے خون کا حساب لیا جا رہا ہے۔“
23 لیکن اُنہیں پتہ نہیں تھا کہ یوسف اُن کی باتیں سمجھ رہے ہیں کیونکہ وہ ایک ترجمہ کرنے والے کے ذریعے اُن سے باتچیت کر رہے تھے۔
24 اُن کی باتیں سُن کر یوسف اُن سے تھوڑا دُور جا کر رونے لگے۔ پھر وہ اُن کے پاس واپس آئے اور دوبارہ اُن سے بات کی۔ اِس کے بعد اُنہوں نے شمعون کو اُن کی آنکھوں کے سامنے بندھوا دیا۔
25 تب یوسف نے حکم دیا کہ اُن کے بوروں میں اناج بھرا جائے، اُن میں سے ہر ایک کے پیسے اُس کے بورے میں واپس ڈال دیے جائیں اور اُنہیں سفر کے لیے کھانے پینے کا سامان دیا جائے۔ اور ایسا ہی کِیا گیا۔
26 پھر یوسف کے بھائیوں نے اپنے گدھوں پر اناج لادا اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔
27 راستے میں وہ ایک مسافرخانے میں رُکے۔ وہاں اُن میں سے ایک نے اپنے گدھے کو چارا کھلانے کے لیے اپنا بورا کھولا اور دیکھا کہ اُس کے پیسے بورے میں اُوپر پڑے ہیں۔
28 تب اُس نے اپنے بھائیوں سے کہا: ”میرے پیسے واپس کر دیے گئے ہیں! دیکھو، یہ میرے بورے میں پڑے ہیں!“ یہ دیکھ کر اُن کے دل بیٹھ گئے اور وہ کانپتے ہوئے ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”خدا نے ہمارے ساتھ یہ کیا کِیا ہے؟“
29 جب وہ اپنے والد یعقوب کے پاس واپس ملک کنعان گئے تو اُنہوں نے اپنے والد کو بتایا کہ اُن کے ساتھ کیا کیا ہوا۔ اُنہوں نے کہا:
30 ”اُس ملک کے حاکم نے ہمارے ساتھ سخت لہجے میں بات کی اور ہم پر اُس ملک کی جاسوسی کرنے کا اِلزام لگایا۔
31 لیکن ہم نے اُس سے کہا کہ ”ہم تو سیدھے سادے لوگ ہیں۔ ہم جاسوس نہیں ہیں۔
32 ہم 12 بھائی ہیں اور ایک ہی شخص کے بیٹے ہیں۔ ہمارا ایک بھائی اب نہیں رہا اور سب سے چھوٹا بھائی ہمارے والد کے پاس ملک کنعان میں ہے۔“
33 لیکن اُس ملک کے حاکم نے ہم سے کہا: ”اگر تُم یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ تُم سچے ہو تو تمہیں ایک کام کرنا ہوگا۔ اپنے ایک بھائی کو یہاں چھوڑ جاؤ اور باقی سب اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے اناج لے جاؤ۔
34 پھر اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لانا۔ اِس طرح مجھے پتہ چل جائے گا کہ تُم سچ بول رہے ہو اور جاسوس نہیں ہو۔ اِس کے بعد مَیں تمہارا بھائی تمہارے حوالے کر دوں گا اور تُم اِس ملک میں اناج خرید سکو گے۔““
35 جب وہ اپنے بورے کھول رہے تھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ ہر ایک کے پیسوں کی تھیلی اُس کے بورے میں ہے ۔ پیسوں کی تھیلیاں دیکھ کر وہ سب بھائی اور اُن کے والد بہت ڈر گئے۔
36 اِس پر اُن کے والد یعقوب چلّا اُٹھے: ”آپ لوگ کیوں میرے بچوں کو مجھ سے چھین رہے ہو؟ یوسف نہیں رہا، شمعون نہیں رہا اور اب آپ بِنیامین کو بھی لے جانا چاہتے ہو! آخر میرے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟“
37 تب رُوبِن نے اپنے والد سے کہا: ”اگر مَیں اِسے آپ کے پاس واپس نہ لایا تو آپ میرے دونوں بیٹوں کی جان لے لینا۔ اِسے میرے ساتھ بھیج دیں۔ مَیں اِس کا خیال رکھوں گا اور اِسے آپ کے پاس واپس لے آؤں گا۔“
38 لیکن یعقوب نے کہا: ”میرا بیٹا آپ کے ساتھ نہیں جائے گا کیونکہ اُس کا بھائی فوت ہو چُکا ہے اور وہ اکیلا رہ گیا ہے۔ اگر راستے میں اُس کے ساتھ کوئی جانلیوا حادثہ پیش آ گیا تو آپ کی وجہ سے مَیں اِس بڑھاپے میں غم کرتا کرتا قبر* میں چلا جاؤں گا۔“
فٹ نوٹس
^ یا ”اور اِس ملک کی کمزوریوں کا پتہ لگانے آئے ہو!“
^ لفظی ترجمہ: ”اُس کی جان“
^ عبرانی لفظ: ”شیول۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔

