ایوب 34‏:1‏-‏37

  • خدا کے فیصلے اور کام صحیح ہیں ‏(‏1-‏37‏)‏

    • ایوب کے مطابق خدا نے اُن سے نااِنصافی کی ‏(‏5‏)‏

    • سچا خدا کبھی بُرائی نہیں کرتا ‏(‏10‏)‏

    • ایوب کو تمام حقائق کا علم نہیں ہے ‏(‏35‏)‏

34  پھر اِلیہو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:‏  2  ‏”‏آپ جو دانش‌مند ہیں!‏ میرے الفاظ پر کان دھریں؛‏آپ جو علم کے مالک ہیں!‏ میری بات سنیں!‏  3  جیسے زبان*‏ کھانے کو چکھتی ہےویسے ہی کان باتوں کو پرکھتا ہے۔‏  4  آئیں مل کر جائزہ لیں کہ کیا صحیح ہے؛‏آئیں مل کر فیصلہ کریں کہ کیا اچھا ہے  5  کیونکہ ایوب نے کہا ہے:‏ ”‏مَیں صحیح ہوںپھر بھی خدا نے میرے ساتھ نااِنصافی کی ہے۔‏  6  کیا مَیں جھوٹ بول رہا ہوں کہ مجھے اِنصاف ملنا چاہیے؟‏ مَیں نے کوئی غلطی نہیں کی پھر بھی میرا زخم نہیں بھر رہا۔“‏  7  ایوب جیسا اَور کون ہےجو تمسخر کو پانی کی طرح پی جائے؟‏  8  وہ گُناہ‌گاروں کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے ہیںاور بُرے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں  9  کیونکہ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏خدا کو خوش کرنے کی کوشش کرنے سےاِنسان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔“‏ 10  اِس لیے آپ جو سمجھ‌دار ہیں!‏ میری بات سنیں!‏ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ سچا خدا بُرائی کرےاور لامحدود قدرت کا مالک کوئی غلط کام کرے!‏ 11  دراصل وہ اِنسان کو اُس کے کاموں کے مطابق صلہ دیتا ہےاور اُسے اُس کے کیے کے نتائج بھگتنے دیتا ہے۔‏ 12  بے‌شک خدا بُرائی نہیں کرتا؛‏لامحدود قدرت کا مالک اِنصاف کا خون نہیں کرتا۔‏ 13  کس نے اُسے زمین کا اِختیار سونپا ہےاور کس نے اُسے پوری دُنیا کا حکمران مقرر کِیا ہے؟‏ 14  اگر وہ اِنسانوں کے کاموں پر نظر رکھے؛‏اگر وہ اُن سے زندہ رہنے کی قوت*‏ اور دم لے لے 15  تو تمام اِنسان مٹ جائیں گےاور خاک میں لوٹ جائیں گے۔‏ 16  اِس لیے اگر آپ سمجھ‌دار ہیں تو میری بات پر توجہ دیں؛‏مَیں جو کہہ رہا ہوں، اُسے دھیان سے سنیں۔‏ 17  اگر کوئی اِنصاف سے نفرت کرتا ہو تو کیا اُس کے پاس اِختیار ہونا چاہیے؟‏کیا آپ اُس طاقت‌ور ہستی کو قصوروار ٹھہرائیں گے جو نیک ہے؟‏ 18  کیا آپ بادشاہ سے کہیں گے:‏ ”‏تُم کسی کام کے نہیں ہو“‏ یا نوابوں سے کہیں گے:‏ ”‏تُم بہت بُرے ہو“‏؟‏ 19  ایک ایسی ہستی ہے جو حاکموں کی طرف‌داری نہیں کرتیاور امیروں کو غریبوں پر*‏ ترجیح نہیں دیتیکیونکہ اُس نے اُن سب کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔‏ 20  وہ آدھی رات کو اچانک سے مر جاتے ہیں؛‏اُن پر شدید کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور وہ گزر جاتے ہیں؛‏طاقت‌ور لوگوں کو بھی مٹا دیا جاتا ہے لیکن اِنسانوں کے ہاتھوں نہیں 21  کیونکہ خدا کی نظر اِنسان کی راہوں پر رہتی ہےاور وہ اُس کے ہر قدم کو دیکھتا ہے۔‏ 22  گہری تاریکی اور گھپ اندھیرا بھیگُناہ‌گاروں کو نہیں چھپا سکتا 23  کیونکہ خدا نے کسی بھی اِنسان کے سلسلے میں یہ وقت مقرر نہیں کِیاکہ وہ کب اُس کے سامنے جائے تاکہ اُس کے بارے میں فیصلہ کِیا جائے۔‏ 24  وہ طاقت‌وروں کو کچل دیتا ہے اور اُسے تفتیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی؛‏وہ اُن کی جگہ دوسروں کو کھڑا کر دیتا ہے 25  کیونکہ وہ اُن کے کاموں سے واقف ہے؛‏وہ رات کے دوران اُن کا تختہ اُلٹ دیتا ہے اور وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔‏ 26  وہ اُنہیں سب کے سامنےاُن کے بُرے کاموں کی سزا دیتا ہے 27  کیونکہ اُنہوں نے اُس کی بات ماننی چھوڑ دی ہےاور وہ اُس کی راہوں کی قدر نہیں کرتے؛‏ 28  اُن کی وجہ سے غریب خدا کے سامنے دُہائی دیتا ہےاور خدا اُس بے‌سہارا شخص کی فریاد سنتا ہے۔‏ 29  جب خدا خاموش رہتا ہے تو کون اُسے قصوروار ٹھہرا سکتا ہے؟‏ جب وہ اپنا چہرہ چھپا لیتا ہے تو کون اُسے دیکھ سکتا ہے؟‏ چاہے کوئی قوم ہو یا شخص، نتیجہ یہی ہوتا ہے 30  کہ خدا بُرے*‏ شخص کو حکمرانی نہیں کرنے دیتااور نہ ہی لوگوں کے لیے پھندے بچھانے دیتا ہے۔‏ 31  کیا کوئی خدا سے کہے گا:‏‏”‏مَیں نے کوئی جُرم نہیں کِیا پھر بھی مجھے سزا ملی ہے؛‏ 32  مجھے بتا کہ ایسا کیا ہے جو مَیں نہیں دیکھ پایا؛‏اگر مَیں نے کوئی غلطی کی ہے تو دوبارہ نہیں کروں گا“‏؟‏ 33  اگر آپ خدا کے فیصلے کو رد کرتے ہیں تو کیا اُسے آپ کی شرائط کے مطابق آپ کو بدلہ دینا چاہیے؟‏ مجھے نہیں بلکہ آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ کیا کریں گے۔‏ اگر آپ کو بہتر پتہ ہے تو بتائیں کہ کیا کِیا جانا چاہیے۔‏ 34  سمجھ‌دار لوگ مجھ سے کہیں گے،‏ہاں، ہر دانش‌مند شخص جو میری بات سُن رہا ہے، کہے گا:‏ 35  ‏”‏ایوب اِس لیے ایسے بول رہے ہیں کیونکہ اُنہیں تمام حقائق کا علم نہیں ہے؛‏اُن کی باتوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اُن میں گہری سمجھ کی کمی ہے۔“‏ 36  ایوب کو*‏ آخری حد تک آزمایا جائےکیونکہ وہ بُرے لوگوں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔‏ 37  وہ گُناہ کرنے کے ساتھ ساتھ بغاوت کر رہے ہیں؛‏وہ ہمارے سامنے تالیاں بجا بجا کر طنز کا اِظہار کر رہے ہیںاور سچے خدا کے خلاف بہت سی باتیں کہہ رہے ہیں۔“‏

فٹ‌ نوٹس

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تالُو“‏
لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کی روح“‏
یا ”‏اعلیٰ کو ادنیٰ پر“‏
یا ”‏برگشتہ“‏
یا شاید ”‏اَے باپ!‏ ایوب کو“‏