رومیوں 7‏:1‏-‏25

  • شریعت سے آزادی کے سلسلے میں مثال (‏1-‏6‏)‏

  • شریعت کے ذریعے گُناہ ظاہر ہو گیا (‏7-‏12‏)‏

  • ‏”‏مَیں وہ کام کرتا ہوں جو مَیں نہیں کرنا چاہتا“‏ (‏13-‏25‏)‏

7  بھائیو!‏ (‏مَیں اُن سے مخاطب ہوں جو شریعت سے واقف ہیں۔‏)‏ کیا آپ کو پتہ نہیں کہ جب تک ایک شخص زندہ رہتا ہے،‏ شریعت اُس کی مالک ہے؟‏ 2  مثال کے طور پر جب تک ایک عورت کا شوہر زندہ ہوتا ہے تب تک وہ عورت شریعت کی بِنا پر اُس سے جُڑی ہوتی ہے۔‏ لیکن جب اُس کا شوہر مر جاتا ہے تو وہ اپنے شوہر کی شریعت سے آزاد ہو جاتی ہے۔‏ 3  اِس لیے اگر ایک عورت اپنے شوہر کے جیتے جی کسی اَور آدمی کی ہو جائے تو وہ زِناکار کہلائے گی لیکن اگر اُس کا شوہر مر جائے تو وہ اُس کی شریعت سے آزاد ہو جائے گی۔‏ ایسی صورت میں اگر وہ کسی اَور کی ہو جائے تو وہ زِناکار نہیں ہوگی۔‏ 4  میرے بھائیو،‏ آپ بھی شریعت سے جُڑے ہوئے تھے لیکن مسیح کے جسم کے ذریعے آپ مر گئے تاکہ کسی اَور کے ہو سکیں یعنی اُس کے جس کو مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا تاکہ ہم خدا کے لیے پھل لا سکیں۔‏ 5  کیونکہ جب ہم اپنے جسم کی خواہشوں کے مطابق چلتے تھے تو ہماری گُناہ‌گار خواہشیں جو شریعت کی وجہ سے بیدار ہو گئی تھیں،‏ ہمارے اعضا پر اثر کر رہی تھیں تاکہ ایسا پھل لائیں جس کا انجام موت ہے۔‏ 6  لیکن اب ہمیں شریعت سے آزاد کر دیا گیا ہے کیونکہ ہم اُس کے لحاظ سے مر گئے ہیں جس نے ہمیں باندھ کر رکھا تھا تاکہ ہم خدا کے غلام بن سکیں لیکن پُرانے معنوں میں نہیں یعنی شریعت کے لحاظ سے نہیں بلکہ نئے معنوں میں یعنی پاک روح کے لحاظ سے۔‏ 7  تو پھر کیا شریعت میں کوئی عیب* ہے؟‏ ہرگز نہیں۔‏ اگر شریعت نہ ہوتی تو مجھے پتہ بھی نہ ہوتا کہ گُناہ کیا ہے۔‏ مثال کے طور پر اگر شریعت میں یہ حکم نہ ہوتا کہ ”‏لالچ نہ کرو“‏ تو مجھے پتہ بھی نہ ہوتا کہ لالچ کیا ہے۔‏ 8  لیکن اِس حکم کے ذریعے گُناہ کو موقع ملا اور اِس نے مجھ میں ہر طرح کا لالچ پیدا کِیا کیونکہ شریعت کے بغیر گُناہ مُردہ تھا۔‏ 9  دراصل مَیں بھی ایک زمانے میں شریعت کے بغیر زندہ تھا لیکن جب یہ حکم آیا تو گُناہ زندہ ہو گیا اور مَیں مر گیا۔‏ 10  یوں مَیں نے دیکھا کہ جس حکم کا انجام زندگی ہونا چاہیے تھا،‏ اُس کا انجام موت ہوا۔‏ 11  کیونکہ اِس حکم کے ذریعے گُناہ کو موقع ملا اور اِس نے مجھے پھسلایا اور مار ڈالا۔‏ 12  دراصل شریعت بذاتِ‌خود پاک ہے اور حکم پاک اور نیک اور اچھا ہے۔‏ 13  تو پھر کیا ایک اچھی چیز نے مجھے مار ڈالا؟‏ ہرگز نہیں۔‏ مجھے تو گُناہ نے مار ڈالا اور وہ بھی ایک اچھی چیز کے ذریعے تاکہ واضح ہو جائے کہ گُناہ موت لاتا ہے۔‏ لہٰذا شریعت سے ظاہر ہوا کہ گُناہ کتنا بُرا ہے۔‏ 14  ہم جانتے ہیں کہ شریعت روحانی ہے لیکن مَیں جسمانی ہوں اور مجھے گُناہ کا غلام بننے کے لیے بیچ دیا گیا ہے۔‏ 15  کیونکہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ مَیں کیا کر رہا ہوں۔‏ کیونکہ مَیں وہ کام نہیں کرتا جو مَیں چاہتا ہوں بلکہ وہ کام کرتا ہوں جس سے مجھے نفرت ہے۔‏ 16  لیکن اگر مَیں وہ کام کرتا ہوں جو مَیں نہیں کرنا چاہتا تو پتہ چل جاتا ہے کہ مَیں شریعت کو اچھا خیال کرتا ہوں۔‏ 17  لہٰذا بُرے کام کرنے والا مَیں نہیں ہوں بلکہ وہ گُناہ ہے جو مجھ میں بسا ہے۔‏ 18  مَیں جانتا ہوں کہ مجھ میں یعنی میرے جسم میں کوئی اچھی چیز نہیں ہے کیونکہ مَیں اچھے کام کرنے کی خواہش تو رکھتا ہوں لیکن کر نہیں پاتا۔‏ 19  کیونکہ جو اچھے کام مَیں کرنا چاہتا ہوں،‏ وہ نہیں کرتا لیکن جو بُرے کام مَیں نہیں کرنا چاہتا،‏ وہ کر بیٹھتا ہوں۔‏ 20  اب اگر مَیں وہ کام کرتا ہوں جو نہیں کرنا چاہتا تو کام کرنے والا مَیں نہیں بلکہ وہ گُناہ ہے جو مجھ میں بسا ہے۔‏ 21  لہٰذا مَیں نے اپنے سلسلے میں یہ حقیقت دیکھی ہے کہ مَیں اچھے کام تو کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھ میں بُرائی کا رُجحان موجود ہے۔‏ 22  مَیں دل سے تو خدا کی شریعت کو بہت پسند کرتا ہوں 23  لیکن میرے اعضا میں ایک اَور شریعت ہے جو میرے ذہن کی شریعت سے جنگ کرتی ہے اور مجھے اُس گُناہ کی شریعت کا غلام بنا دیتی ہے جو میرے اعضا میں ہے۔‏ 24  دیکھو،‏ مَیں کتنا بےبس ہوں!‏ مجھے اِس جسم سے کون بچائے گا جو اِس طرح مر رہا ہے؟‏ 25  مَیں خدا کا شکر کرتا ہوں جس نے ہمارے مالک یسوع مسیح کے ذریعے مجھے بچایا ہے!‏ لہٰذا مَیں ذہن کے لحاظ سے خدا کی شریعت کا غلام ہوں لیکن جسم کے لحاظ سے گُناہ کی شریعت کا غلام ہوں۔‏

فٹ‌ نوٹس

یونانی میں:‏ ”‏گُناہ“‏