رومیوں 12‏:1‏-‏21

  • جسم کو قربانی کے طور پر پیش کریں (‏1،‏ 2‏)‏

  • ایک جسم لیکن فرق فرق نعمتیں (‏3-‏8‏)‏

  • سچے مسیحی بننے کے لیے ہدایات (‏9-‏21‏)‏

12  لہٰذا بھائیو،‏ مَیں خدا کے رحم کی بِنا پر آپ سے اِلتجا کرتا ہوں کہ اپنے جسم ایک ایسی قربانی کے طور پر پیش کریں جو زندہ،‏ پاک اور خدا کو پسندیدہ ہے یعنی اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال میں لا کر مُقدس خدمت انجام دیں۔‏ 2  اور اِس زمانے کے طورطریقوں کی نقل کرنا چھوڑ دیں بلکہ اپنی سوچ کا رُخ موڑ کر خود کو مکمل طور پر بدل لیں تاکہ آپ جان جائیں کہ خدا کی اچھی اور پسندیدہ اور کامل مرضی کیا ہے۔‏ 3  مَیں اُس عظیم رحمت کی بِنا پر جو مجھے عطا کی گئی،‏ آپ سب سے کہتا ہوں کہ خود کو اپنی حیثیت سے زیادہ اہم نہ سمجھیں بلکہ سمجھ‌دار بنیں کیونکہ خدا ہی ہم میں سے ہر ایک کو ایمان دیتا ہے۔‏ 4  کیونکہ جیسے جسم ایک ہوتا ہے لیکن اعضا بہت سے ہوتے ہیں اور سارے اعضا فرق فرق کام کرتے ہیں 5  ویسے ہی ہم بہت سارے ہیں لیکن یسوع مسیح کے ساتھ متحد ہو کر ایک جسم ہیں اور ایسے اعضا ہیں جو ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں 6  اور ہمیں خدا کی عظیم رحمت کی بِنا پر فرق فرق نعمتیں عطا کی گئی ہیں۔‏ اِس لیے اگر ہمیں پیش‌گوئی کرنے کی نعمت ملی ہے تو آئیں،‏ اپنے اپنے ایمان کے مطابق پیش‌گوئی کریں؛‏ 7  اگر ہمیں کوئی خدمت سونپی گئی ہے تو آئیں،‏ اِس خدمت میں لگے رہیں؛‏ جو تعلیم دیتا ہے،‏ وہ تعلیم دیتا رہے؛‏ 8  جو دوسروں کی حوصلہ‌افزائی* کرتا ہے،‏ وہ حوصلہ‌افزائی کرتا رہے؛‏ جو تقسیم کرتا* ہے،‏ وہ دل کھول کر تقسیم کرے؛‏* جو پیشوائی کرتا ہے،‏ وہ لگن سے پیشوائی کرے؛‏ جو رحم کرتا ہے،‏ وہ خوشی سے رحم کرے۔‏ 9  آپ کی محبت ریاکاری سے پاک ہو۔‏ بُرائی سے گھن کھائیں اور اچھائی سے لپٹے رہیں۔‏ 10  ایک دوسرے سے بہن بھائیوں کی طرح پیار کریں۔‏ ایک دوسرے کی عزت کرنے میں پہل کریں۔‏ 11  محنتی ہوں اور سُستی نہ کریں۔‏ پاک روح سے دہکتے رہیں۔‏ دل‌وجان سے یہوواہ* کی غلامی کریں۔‏ 12  اپنی اُمید کی وجہ سے خوش ہوں۔‏ مصیبتوں میں ثابت‌قدم رہیں۔‏ دُعا کرنے میں لگے رہیں۔‏ 13  جو کچھ آپ کے پاس ہے،‏ اِسے مُقدسوں کی ضروریات کے مطابق اُن کے ساتھ بانٹیں۔‏ مہمان‌نوازی کرتے رہیں۔‏ 14  اُن کے لیے دُعا کریں جو آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں،‏ ہاں،‏ دُعا کریں،‏ بددُعا نہ کریں۔‏ 15  اُن کے ساتھ خوش ہوں جو خوش ہیں اور اُن کے ساتھ روئیں جو رو رہے ہیں۔‏ 16  دوسروں کو اپنے جیسا خیال کریں اور خود میں غرور پیدا نہ کریں بلکہ خاکساری کی راہ اِختیار کریں۔‏ خود کو بڑا دانش‌مند نہ سمجھیں۔‏ 17  بُرائی کے بدلے بُرائی نہ کریں۔‏ وہ کام کریں جو سب لوگوں کی نظر میں اچھا ہو۔‏ 18  جہاں تک ممکن ہو،‏ اپنی طرف سے سب کے ساتھ امن سے رہیں۔‏ 19  عزیزو،‏ بدلہ نہ لیں بلکہ خدا کا غضب ظاہر ہونے دیں کیونکہ ”‏یہوواہ* نے کہا ہے کہ ”‏بدلہ لینا میرا کام ہے۔‏ مَیں بدلہ دوں گا۔‏“‏ “‏ 20  لیکن ”‏اگر آپ کے دُشمن کو بھوک لگی ہے تو اُسے کھانا کھلائیں اور اگر اُسے پیاس لگی ہے تو اُسے پانی پلائیں کیونکہ ایسا کرنے سے آپ اُس کے سر پر دہکتے ہوئے کوئلوں کا ڈھیر لگائیں گے۔‏“‏* 21  بُرائی کو اپنے اُوپر غالب نہ آنے دیں بلکہ اچھائی سے بُرائی پر غالب آئیں۔‏

فٹ‌ نوٹس

یا ”‏نصیحت“‏
یا ”‏دیتا“‏
یا ”‏دے“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یعنی آپ اُس کے دل کو نرم کریں گے اور اُس کی سخت‌مزاجی کو پگھلا دیں گے۔‏